Thu. Feb 26th, 2026

ڈیزل کی اضافی قیمت میں آندھراپردیش ، کیرالا اور تلنگانہ ملک میں سرفہرست – Siasat Daily

india del


انڈامان نکوبار میںسب سے کم قیمت، ریاستی ٹیکسوں اور ٹرانسپورٹیشن چارجس کا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر
حیدرآباد ۔25 ۔ فروری (سیاست نیوز) ہندوستان کی 36 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں معاشی صورتحال اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر ڈیزل کے قیمتوں کا واضح طور پر اثر دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا کوئی رجحان نہیں دیکھا گیا ہے۔ عام طورپر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین ریاستوں کے ٹیکسوں اور ٹرانسپورٹ کی مالیت کی بنیاد پرکیا جاتاہے۔ جن ریاستوں میں پٹرول اور ڈیزل کی طلب زیادہ ہے، وہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں زائد درج کی گئی ہے۔ حال ہی میں ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق ملک گیر سطح پر سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پٹرول کی طرح ڈیزل کی قیمتوں میں آندھراپردیش ، تلنگانہ اور کیرالا سرفہرست ہیں۔ کم قیمتوں میں انڈامان اور نکوبار اور ہماچل پردیش کو آخری مقام حاصل ہوا ہے۔ آندھراپردیش میں ڈیزل فی لیٹر 97.31 روپئے ہے جبکہ تلنگانہ میں 95.7 روپئے اور کیرالا میں 96.48 روپئے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت درج کی گئی ہے ۔ انڈامان نکوبار میں ڈیزل فی الیٹر 78.05 روپئے فروخت کیا جارہا ہے ۔ ہماچل پردیش میں ڈیزل کی قیمت 87.18 روپئے فی لیٹر ہے۔ ملک کی دیگر اہم ریاستوں میں ڈیزل کی قیمت اوسط درج کی گئی ہے۔ اروناچل پردیش میں فی لیٹر ڈیزل 80.41 روپئے میں فروخت کیا جارہا ہے ۔ جہاں تک بڑی ریاستوں کا تعلق ہے، اترپردیش میں 87.81 روپئے ، مدھیہ پردیش 91.79 روپئے ، راجستھان 90.21 روپئے ، گجرات 90.72 روپئے ، مہاراشٹرا 90.03 روپئے ، کرناٹک 90.99 روپئے ، اڈیشہ 92.74 روپئے ، جھارکھنڈ 92.62 روپئے ، مغربی بنگال 92.02 روپئے ، بہار 91.83 روپئے جبکہ چھتیس گڑھ میں فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 93.11 روپئے ہے۔ قیمتوں سے متعلق سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پٹرولیم اشیاء کی قیمتیں زائد درج کی گئیں جس کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ اناج ، ترکاری اور دیگر غذائی اجناس کی منتقلی کیلئے ڈیزل کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور ٹرانسپورٹیشن چارجس میں اضافہ کا اثر قیمت پر دکھائی دے رہا ہے۔ 2017 کے بعد سے ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کا اثر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت سے واضح ہوتاہے۔ امریکی دباؤ کے تحت کم قیمت پر خام تیل کی خریدی سے گریز کے نتیجہ میں اضافی بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے۔ آندھراپردیش اور ٹاملناڈو میں مقامی طور پر تقریباً 4 روپئے کا اضافی ٹیکس عائد کیا جارہا ہے ۔ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ صنعتی علاقوں میں پٹرول اور ڈیزل کی طلب زیادہ ہے اور ٹرانسپورٹیشن چارجس کے نام پر عوام سے اضافی رقم حاصل کی جارہی ہے ۔1



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *