افغانستان کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے جمعے کو پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں کہا ہے کہ ’اگر کابل محفوظ نہیں ہے تو اسلام آباد بھی محفوظ نہیں ہوگا۔ اگر کابل پر حملہ ہوا تو اسلام آباد پر بھی حملہ ہوگا۔‘
انہوں نے یہ بات طلوع نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ افغان حکومت، موجودہ نظام اور عوام پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتی۔
ساتھ ہی ملا یعقوب نے کہا: ’لیکن اگر جنگ 10 سال تک جاری رہی تو ہم بھی ان کے ساتھ دس سال لڑنے کے لیے تیار ہیں اور ہمیں کوئی خوف نہیں ہے۔‘
یہ انٹرویو ہفتے کی شام نشر کیا جائے گا لیکن اس کے چند اقتباسات ویڈیو کی صورت میں سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ہیں۔
افغان وزیر دفاع ملا یعقوب سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ اس جنگ کے لیے کتنی تیاری کر چکے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ’طالبان فورسز نے ایک افغان کی موت کے بدلے میں درجنوں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو مارا ہے۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ کے آخر میں اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
پاکستانی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جمعے کی شب ایکس پر بتایا کہ پاکستانی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان کے 527 کارندوں کی اموات ہو چکی ہیں جبکہ 700 سے زائد زخمی ہیں۔
انٹرویو کے دوران افغان طالبان تحریک کے بانی سربراہ ملا محمد عمر کے بیٹے سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا یہ جنگ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مسئلے کی وجہ سے شروع ہوئی یا یہ ایک امریکی منصوبہ ہے، تو طالبان کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کا اصل مسئلہ ڈیورنڈ لائن ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن ایک سرحدی تقسیم ہے۔ یہ لائن 1893 میں برطانوی حکومت اور افغانستان کے امیر عبدالرحمن خان کے درمیان طے پائی تھی۔ پاکستان اسے باضابطہ سرحد مانتا ہے جب کہ کابل اسے نہیں مانتا۔
ملا یعقوب کا یہ بیان افغانستان-پاکستان جنگ کے آغاز کے بعد سے ان کا پہلا عوامی ردعمل ہے جو سامنے آیا ہے۔
ملا یعقوب کے بیان کے دوران متعدد مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کو جانی اور مالی نقصانات پہنچانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
ملا یعقوب نے مزید کہا ’پاکستان کی جانب سے ہمارے لیے ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ ’جذباتی تخیل‘ پر مبنی ہے۔‘
اسلام آباد کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے اور اس کے عسکریت پسند افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں تاہم کابل اس کی تردید کرتا آیا ہے۔
افغان وزیر دفاع نے انٹرویو میں مزید کہا کہ افغانستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر یہ تنازع جاری رہا تو وہ لڑائی جاری رکھیں گے۔ ’اگر وہ جنگ کو دس سال تک بڑھاتے ہیں تو ہم بھی دس سال تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں کوئی خوف نہیں ہے۔‘
پاکستان کی جانب سے افغان وزیر دفاع کے ان بیانات کے حوالے سے تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
