حیدرآباد:
نکاح کے نام پر فراڈ کا ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں کراچی سے شادی کے لیے آنے والا نوجوان اپنے والدین کے ہمراہ دھوکے کا شکار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ جی او آر کی حدود جمالی پاڑہ کچی آبادی میں پیش آیا۔ متاثرہ نوجوان محمد عثمان ولد رمضان راجپوت، جو کراچی کے علاقے سیکٹر 13 نواب کالونی بلدیہ ٹاؤن کا رہائشی ہے نے پولیس کو بتایا کہ اس کی والدہ اس کے لیے رشتہ تلاش کر رہی تھیں۔
مدعی کے مطابق رانی نامی خاتون زوجہ عباس چانڈیو نے ان سے رابطہ کیا اور حیدرآباد بلا کر ندا نامی لڑکی سے شادی طے کروائی۔
طے شدہ تاریخ پر محمد عثمان اپنے والدین اور بھائیوں کے ہمراہ حیدرآباد پہنچا اور رانی کے گھر نکاح کی تیاریاں شروع ہوئیں۔
متاثرہ نوجوان کے مطابق غربت کا ذکر کرنے پر لڑکی کے مبینہ والدین نے شادی کے ضروری سامان کے لیے ڈھائی لاکھ روپے نقد مانگے جو انہیں دے دیے گئے، جبکہ دو لاکھ روپے مالیت کے نئے کپڑے بھی دلہن کو فراہم کیے گئے۔
تاہم رقم اور کپڑے لینے کے بعد لڑکی اور اس کے ساتھی اچانک گھر سے غائب ہو گئے۔ جب متاثرہ خاندان نے علاقے میں معلومات کیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی اور اس کے ساتھی ایک فراڈی ٹولے سے تعلق رکھتے ہیں جو اسی طرح لوگوں کو نکاح کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں۔
پولیس نے محمد عثمان کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے کارروائی کرتے ہوئے تین خواتین کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس فراڈ میں ملوث مزید پانچ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
