Sat. Mar 21st, 2026

کویت کے بعد ابوظہبی میں بھی ایران اور حزب اللہ کے ایجنٹ پکڑے گئے

news 1774097800 6803



news 1774097800 6803

(ویب ڈیسک) کویت کے بعد ابوظہبی میں بھی حزب اللہ اور ایران سے منسلک افراد کے نیٹ ورک کو ختم کر کے ارکان کو  پکڑ لیا گیا۔
 ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے سٹیٹ سیکیورٹی ادارے نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسے منظم نیٹ ورک کو ختم کر دیا ہے، جسے لبنان کی حزب اللہ اور ایران کی جانب سے فنڈنگ اور آپریشنل مدد  مل رہی تھی۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر ایجنسی وام  نے رپورٹ کیا کہ  ایرانی ایجنٹوں کے اس  نیٹ ورک کے ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ایجنٹوں کا یہ نیٹ ورک یو اے ای میں جعلی تجارتی ادارے کی آڑ میں کام کر رہا تھا۔

امارات کے سکیورٹی حکام کے مطابق ایرانی ایجنٹوں کا نیٹ ورک قومی معیشت میں در اندازی کے ساتھ ایسے بیرونی منصوبے بنا رہا تھا جو ملک کے مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ یہ نیٹ ورک تخریب کاریوں کی مالی معاونت کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھا اور متحدہ عرب امارات کی  قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

سٹیٹ سیکیورٹی  ادارہ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ قومی معیشت یا شہری اداروں کو تخریبی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کا سختی اور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے:   امریکہ ایران میں فوج بھیجنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، امریکی نیوز آؤٹ لیٹ کا انکشاف
روئٹرز کے مطابق لبنان کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے متحدہ عرب امارات کے خلاف ’’دہشت گرد سازش‘‘ قرار دیا، حزب اللہ کی مبینہ شمولیت کی مذمت کی، اور یقین دہانی کرائی کہ لبنانی حکام ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تعاون کریں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر   لبنان کی وزارت خارجہ نے اس ماہ کے آغاز میں لبنانی حکومت کے اس فیصلے کو بھی دہرایا، جس کے تحت حزب اللہ کی عسکری اور سیکیورٹی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

دوسری طرف حزب اللہ نے جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات کے  حکام کے  بیان کو ’’من گھڑت‘‘ قرار دیا۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ اس کی نہ تو امارات میں کوئی موجودگی ہے اور نہ ہی کوئی آپریشنل نیٹ ورک ہے۔

کویت میں حزب اللہ کے ایجنٹوں کا گروہ پکڑا گیا

یہ پیش رفت کویت میں پیش آنے والے ایک علیحدہ واقعے کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں حکام نے پیر کے روز بتایا تھا کہ انھوں نے ایک ایسے گروہ کا سراغ لگایا ہے جس کے حزب اللہ سے روابط تھے اور جو قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ حکام نے اس کارروائی میں اسلحہ، گولہ بارود اور ڈرونز بھی قبضے میں لیے۔

حزب اللہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کویتی ا حکومت کے انکشاف کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ اس کی کویت میں بھی کوئی موجودگی یا آپریشنل نیٹ ورک نہیں ہے۔

 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے تہران خلیجی خطے میں بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے اور متحدہ عرب امارات اس کا سب سے برا نشانہ ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:   ایران کے  جنرل اسمٰعیل احمدی اور مہدی رستمی سمستان  اسرائیلی حملوں میں مارے گئے 





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *