Thu. Mar 19th, 2026

ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں، ہم اپنے شیڈول سے بہت آگے – Siasat Daily

US President Donald Trump. 2


مدد کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کا ردعمل، ناٹو احمقانہ غلطی کا مرتکب

واشنگٹن، 18 مارچ (یو این آئی) ایران جنگ میں اتحادیوں کی جانب سے مدد کی درخواستیں رد ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں لیکن ناٹو احمقانہ غلطی کر رہا ہے ۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جیسے طاقتور ملک کے صدر کے طور پرکہنا چاہتا ہوں ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے ۔ ٹرمپ کا کہنا تھا ناٹو احمقانہ غلطی کر رہا ہے ، ناٹو کو اس وقت خطے میں ہونا چاہیے تھا۔ فرانسیسی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے آپریشن میں حصہ نہ لینے کے بیان پر ٹرمپ نے کہا کہ میکرون جلد عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں گے ۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے نام لیے اور کہا کہ ہم جو ایران کے ساتھ کر رہے ہیں اس پر بیشتر ممالک متفق تھے ، لیکن ضرورت کے وقت ان ممالک نے امریکہ کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اس سے پہلے برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور چین آبنائے ہرمز کھلوانے میں ٹرمپ کی جانب سے مدد کی اپیل مسترد کرچکے ہیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے شیڈول سے بہت آگے جارہے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران پر حملے کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو وہ اب تک ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ایرانی کی فضائیہ اور نیوی کو مکمل تباہ کردیا ہے اور ہم اپنے شیڈول سے بہت آگے جارہے ہیں۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے ۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو درست قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہیکہ اگر امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ نہ کرتے تو ممکنہ طور پر جوہری جنگ چھڑ سکتی تھی جو تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو جاتی۔ اوول آفس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس فوجی مہم کو ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر اقدام قرار دیا اور کہا کہ اگر ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ نہ کیا ہوتا تو ایران ایک ماہ میں جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا اور اسے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے خلاف استعمال کرتا۔ ان کا کہنا ہیکہ یہ ایسی جنگ ہوتی جس میں کچھ بھی باقی نہ رہتا اور مؤقف اختیار کیا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی کر کے ایک عظیم کام انجام دیا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو کوئی بھی جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کی حمایت کرتا ہے ، اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے ۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ ایران کے پاس اس وقت نہ بحریہ ہے ، نہ فضائیہ، نہ فضائی دفاعی نظام اور نہ ہی قیادت۔ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے معلوم ہی نہیں ہم کس سے بات کر رہے ہیں، کیونکہ ان میں سے کسی کو کوئی نہیں جانتا، وہ سب (ایران کی اعلیٰ قیادت) مر چکے ہیں۔

ٹرمپ کا دورہ چین ملتوی
واشنگٹن، 18 مارچ (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رواں شیڈول انتہائی اہم دورہ چین اچانک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے آج چین کے اہم دورے کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا جس میں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کرنی تھی۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی خارجہ پالیسی کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں تاخیر پیدا ہوئی ہے ۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ہم ملاقات کا وقت دوبارہ طے کر رہے ہیں۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *