Thu. Mar 26th, 2026

15 نکاتی امریکی منصوبہ کے تحت ایران جنگ کے خاتمہ کی راہ ہموار – Siasat Daily

w1 11


جنگ کا خاتمہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول دے سکتا ہے، سابق امریکی وزیردفاع کا انتباہ

تہران ؍ واشنگٹن ۔ 25 مارچ (ایجنسیز) اسرائیلی چینل 12 نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمہ کیلئے 15 نکات پر مشتمل ایک دستاویز تیار کر رہا ہے، جس میں ایک ماہ کی جنگ بندی شامل ہے، اس دوران غزہ اور لبنان جیسے سابقہ معاہدوں کی طرز پر ایک فریم ورک معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔چینل 12 کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف کے ساتھ مل کر اس دستاویز کے ذریعے تنازع ختم کرنے کا طریقہ کار تیار کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ایک ماہ کی جنگ بندی شامل ہے، جس کے دوران مذاکرات کے دروازے کھولے جائیں گے تاکہ ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے، جبکہ ایرانی جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں اور دیگر کڑی شرائط بھی عائد کی جائیں گی۔تاہم تہران کی جانب سے اس منصوبے کی منظوری کے امکانات پر شکوک و شبہات برقرار ہیں، جبکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکہ ایک عمومی فریم ورک معاہدے کی طرف بڑھ سکتا ہے اور تکنیکی تفصیلات کو بعد کے مراحل تک مؤخر کر سکتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب دونوں فریقوں کے درمیان فوجی کشیدگی جاری ہے اور امریکی فوج ایران کے اندر ہزاروں فوجی اہداف کو تباہ کرنے کا دعویٰ کر چکی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔امریکی اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک جانب فوجی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے دوسری جانب مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے، تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ آیا ایران ان شرائط کو قبول کرے گا اور کیا واشنگٹن تمام فریقوں کی پابندی کو یقینی بنا سکے گا۔دوسری طرف امریکہ کے سابق وزیر دفاع جیمز میٹس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا اس وقت خاتمہ تہران کو عملی طور پر آبنائے ہرمز پر کنٹرول دے سکتا ہے جو کہ توانائی کی ترسیل کیلئے دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔میٹس کے یہ بیانات صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف فوجی حملوں میں پانچ روز کے عارضی وقفے کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ فوجی کارروائیوں کا چوتھا ہفتہ جاری ہے۔میٹس نے اس جانب اشارہ کیا کہ حملوں کے جواب میں ایرانی ردعمل نے اس گزرگاہ کو عملی طور پر بند کر دیا ہے جہاں سے عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریبا 20 فیصد گزرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے بین الاقوامی مارکیٹ کے توازن پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔توانائی کی کانفرنس سیرا ویک میں شرکت کے دوران میٹس نے کہا کہ اگر ہم نے ابھی فتح کا اعلان کر دیا تو ایران کہے گا کہ آبنائے ہرمز پر اس کا قبضہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران اس بحری گزرگاہ سے گزرنے والے ہر جہاز پر فیس نافذ کر سکتا ہے۔
جیمز میٹس نے موجودہ صورتحال کو پیچیدہ اور مشکل قرار دیتے ہوئے واشنگٹن میں فیصلہ سازوں کے سامنے محدود اختیارات کی نشاندہی کی۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ نے میٹس کے بیانات پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا جبکہ حملوں میں وقفے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور قیمت تقریبا 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، یاد رہے کہ 28 فروری سنہ 2026ء کو فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے قیمتیں 120 سے 90 ڈالر کے درمیان رہی تھیں۔میٹس کا خیال ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی تصفیے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی کم ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی فضائی حملوں نے اگرچہ ایران کے اندر فوجی اہداف کو تباہ کیا ہے لیکن وہ امریکی اسٹریٹجک مفادات کو مستحکم کرنے میں کوئی حتمی پیش رفت حاصل نہیں کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت دونوں فریقین میں سے کوئی بھی دوسرے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ صرف فضائی طاقت حکومتوں کو گرانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *