Wed. Mar 11th, 2026

27ویں آئینی ترمیم: مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں بنیادی مسودہ منظور

375689 1221981437


قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے اتوار کو 27ویں آئینی ترمیم کے بنیادی مسودے کی منظوری دے دی، جس کی رپورٹ پیر کو سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔

27ویں ترمیم کا مقصد ایک نئے آئینی عدالت کا قیام، ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی بحالی، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاقی آمدنی کی صوبوں میں تقسیم میں ترمیم اور اعلیٰ عدلیہ اور فوجی قیادت کی تقرریوں کے طریقہ کار میں تبدیلی کرنا ہے۔

گذشتہ روز وفاقی کابینہ سے منظور ہونے والے اس بل کے دیگر اہم نکات میں ججز کی منتقلی کا فیصلہ عدالتی کمیشن سے کرنے، قومی ہیروز کو دیے گئے اعزازات کو تاحیات برقرار رکھنا اور چھوٹے صوبوں جیسے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے لیے صوبائی کابینہ کا 11 فیصد کا حدف 13 فیصد تک بڑھانا بھی شامل ہیں۔

چیئرمین مشترکہ کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے نو گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بنیادی مسودے کی منظوری کا اعلان کیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اور اتحادی جماعتوں کی کچھ تجاویز پر حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو ترامیم پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وہ خود حتمی فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔

اس موقعے پر تارڑ نے بتایا کہ کمیٹی کی منظور شدہ تجاویز کی رپورٹ کل سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔

اے این پی سینیٹر ہدایت اللہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ خیبرپختونخوا سے ’خیبر‘ ہٹانے کی تجویز دی گئی ہے کیونکہ خیبر صرف ان کا ضلع ہے اور صوبے کے ساتھ نام نہیں ہونا چاہیے۔

ایم کیو ایم نے لوکل گورنمنٹ اختیارات بڑھانے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے صوبائی نشستیں بڑھانے کی تجویز دی تھی۔

پی ٹی آئی، جماعتِ علمائے اسلام ف اور مجلس وحدت المسلمین کے قانون سازوں نے آج بھی پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ جاری رکھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم تارڑ، وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر اراکین اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں سینیٹر خلیل طاہر سندھو، اے این پی کے ہدایت اللہ خان اور پی پی پی کے ایم این ایز قاسم گیلانی اور سید ابرار علی شاہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔ ن لیگ کی شمیلا رانا نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے، جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے، 27ویں ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آئین میں اس ’انتہائی خطرناک اور تاریک‘ تبدیلی کے خلاف موقف اختیار کریں۔

پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بل پر بحث اس لیے نامناسب تھی کیونکہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفائی شدہ فرد موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت و اتحادی ترمیمات منظور کرنے میں جلدی کر رہے ہیں۔

تاہم دونوں جماعتوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ 27ویں ترمیم کا مسودہ بغیر مناسب بحث کے منظور کیا گیا اور کہا کہ بل کو وسیع پیمانے پر جانچ پڑتال کے بعد پیش کیا گیا ہے۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *