پاکستان نے منگل کو مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے ایک اعلیٰ سطحی سعودی وفد کے ساتھ باضابطہ بات چیت کا آغاز کر دیا ہے، کیونکہ اسلام آباد درآمدی انحصار کم کرنے اور اپنے نیشنل امیونائزیشن پروگرام کے لیے بین الاقوامی مالی معاونت کے ممکنہ خاتمے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ مذاکرات صحت کے تحفظ اور صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی وسیع تر کوششوں کے تناظر میں ہو رہے ہیں۔ 240 ملین سے زائد آبادی والے اس ملک میں اس وقت نیشنل امیونائزیشن مہم میں استعمال ہونے والی تمام ویکسین درآمد کی جاتی ہیں، اور اخراجات پورے کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں پر بھاری انحصار کیا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری نہ صرف صحت کے تحفظ کو مضبوط کرے گی بلکہ زرمبادلہ بچانے اور پاکستان کے طویل المدتی معاشی استحکام میں بھی مدد دے گی، کیونکہ ملک مہنگی درآمدات کم کرنے اور برآمدات پر مبنی صنعتی صلاحیت قائم کرنے کا خواہاں ہے۔
وزارت صحت کے مطابق، 11 رکنی سعودی وفد کی قیادت سعودی عرب کے وزیرِ صنعت کے سینیئر مشیر نزار الحریری کر رہے ہیں، اور یہ وفد صحت، دواسازی اور صنعتی تعاون میں دوطرفہ روابط کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلا س اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ویکسین سازی میں دوطرفہ تعاون پر اہم پیش رفت سامنے آئی۔
سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی وفد، منسٹر آف انڈسٹری کے سینیئر ایڈوائزر نزار الحریری کی قیادت… pic.twitter.com/0iKb5XhjQx— Syed Mustafa Kamal (@KamalMQM) February 3, 2026
وزارت نے ایک بیان میں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال جنہوں نے اسلام آباد میں وفد سے ملاقات کی کے حوالے سے بتایا کہ ’پاکستان میں 13 بیماریوں کے لیے ویکسین کی مقامی پیداوار کی جانب عملی پیش رفت ہو رہی ہے۔‘
پاکستانی حکام نے موجودہ ویکسین کی طلب، موجودہ انفراسٹرکچر اور پیداواری صلاحیت پر تفصیلی بریفنگز دیں۔
وزارت صحت کے مطابق ’صحت کے شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون پورے خطے کے لیے ایک مثال قائم کرے گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سید مصطفیٰ کمال نے دورہ کرنے والے وفد کو بتایا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جہاں ہر سال تقریباً 6.2 ملین بچے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی سالانہ آبادی میں اضافہ تقریباً نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت 13 بیماریوں کے لیے ویکسین مفت فراہم کرتی ہے لیکن ان میں سے کسی کی بھی مقامی سطح پر تیاری نہیں کی جاتی، جس کے باعث پاکستان کو سالانہ تقریباً 400 ملین ڈالر کی لاگت سے ویکسین درآمد کرنا پڑتی ہیں۔
پاکستان کی وزارت صحت کے مطابق، اس لاگت کا 49 فیصد اس وقت بین الاقوامی شراکت دار ادا کرتے ہیں، جبکہ باقی رقم پاکستانی حکومت برداشت کرتی ہے۔
تاہم سید مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا کہ یہ بیرونی معاونت 2031 کے بعد ختم ہونے کی توقع ہے۔
’اگر ویکسین مقامی سطح پر تیار نہ کی گئیں تو 2031 تک سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو قومی معیشت پر بھاری بوجھ ڈالے گی۔‘
پاکستان باقاعدگی سے پولیو، خسرہ، روبیلا اور ہیپاٹائٹس سمیت بیماریوں کے خلاف ملک گیر حفاظتی ٹیکہ جات مہمات منعقد کرتا ہے۔ اس ہفتے، اس نے سات روزہ پولیو ویکسینیشن مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد 45 ملین سے زائد بچوں کو ویکسین لگانا ہے۔
