(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش میں ملک کی تاریخ کے سب سے حساس الیکشن 12 فروری کو ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات پر دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ ان انتخابات کا مشاہدہ کرنے کے لئے بنگلہ دیش کی محمد یونس کی نگراں حکومت نے بہت سے ملکوں کو اپنے مبصرین بھیجنے کی دعوت دی ہے۔ بیشتر ملکوں کے مبصر بنگلہ دیش آ رہے ہیں تاہم چھ ملک اپنے انتخابی مبصرین نہیں بھیج رہے!
بنگلہ دیش سے ہمارے نامہ نگار سلیم رضا کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن (ای سی) کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہونے کے باوجود بھارت، فرانس اور آسٹریلیا سمیت چھ دیگر ممالک 13ویں پارلیمانی انتخابات اور 12 فروری کو ہونے والے ریفرنڈم کے مشاہدے کے لیے کوئی مبصر نہیں بھیج رہے ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی ایشیا کی ایک بین الاقوامی تنظیم بھی انتخابات میں مبصر نہیں بھیج رہی ہے۔
بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن اور وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے کہا کہ ہندوستان، فرانس، آسٹریلیا، برازیل، مصر، کویت، مراکش اور رومانیہ کو الیکشن کمیشن نے 13ویں پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کا مشاہدہ کرنے کے لیے مدعو کیا تھا۔ لیکن ابھی تک متعلقہ ممالک کی جانب سے کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تنظیم فورم آف دی الیکشن مینجمنٹ باڈیز آف ساؤتھ ایشیا (FEMBOSA) کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ افراد نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کی دعوت پر مختلف ممالک کے الیکشن کمیشن اور الیکشن سے متعلقہ اداروں کے تقریباً 60 مہمان انتخابات کا مشاہدہ کرنے ڈھاکہ آئے ہیں۔ انہیں ڈھاکہ کے ایک ہوٹل میں سرکاری انتظام کے تحت ٹھہرایا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ نے کہا کہ ریفرنڈم اور قومی انتخابات کے لیے 150 غیر ملکی صحافی بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

