محافظ اراولی راجہ حسن خان میواتی کی عسکری جدوجہد پر مبنی افسانوی تاریخی ناول نواب ناظم میواتی کی ایک زندہ رہنے والی تخلیق ہے۔ نواب ناظم میواتی صحافی، شاعر، ادیب اور پبلشر اور بہت کچھ ہیں۔ انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ایک استاد کی حیثیت سے کیا۔ لاہور سے ایک اخبار شائع کیا اور سسٹم پبلشر کے عنوان سے اپنا اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ نواب ناظم میواتی کے اب تک تین شعری مجموعے، دو ناول اور مختلف موضوعات پر چارکتابیں شائع ہوچکی ہیں۔
یہ ناول دراصل ہندوستان کے بادشاہ رانا سنگا، ان کے مسلمان ساتھی راجہ حسن خان میواتی، ابراہیم لودھی اور پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے درمیان جنگ اور اس جنگ میں میواتی قوم کی جرات مندانہ تاریخ اور روایات، ابراہیم لودھی کی بابر کے ساتھ پانی پت کی لڑائی کے جزوی کلی واقعات اور بادشاہی ہوس میں بننے والی انسانی خون کی خوفناک لہروں، خونی ندی کی جھلک اور میدانِ جنگ میں پڑی لاشوں کے بدن سے جدا ہونے والی ارواح کی آہیں اور بند ہوتی آنکھوں کے آنسوؤں کے مذموم ناقابلِ برداشت منظر پر مشتمل ہے جب کہ تخت دلی کے لیے برپا ہونے والے چھوٹے موٹے معرکوں، ہندو راجوں کی باہمی عداوتوں، سازشوں کے ساتھ والی الور راجا حسن خان میواتی اور رانا سانگا کی مغل بادشاہ بابر کے ساتھ ہونے والی آخری لڑائی میں جنگ، فتح پور والی الورکی حال، تاریخ کے قلم اور روایات کی سیاہی سے لکھا گیا ہے۔
اس ناول میں والی الورکی جانبازی اور رانا سانگا کی شجاعانہ سر دھڑ بازی بھی قاری سے اوجھل نہیں رہے گی۔ کتاب کے مصنف نواب ناظم میو نے ناول کے ابتداء میں لکھا ہے کہ اس ناول میں ہندوستان کے تاریخی مقام فتح پور سیکری اس جنگ میں مغل نواب ظہیر الدین بابرکی جرنیلی حکمت عملی پالیسی اور اس کے پختہ عزم کی دھڑکنیں، تلوار بازی اور نیزوں کے پروں کی آوازوں کے ساتھ سنائی دیں گی۔ مصنف نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ محافظ الورکو سیاہی سے نہیں خونِ جگر سے لکھا ہے۔ سردار عظیم الدین میو نے کتب کے فلیپ میں لکھا ہے کہ فیروزشاہ تغلق کے دور میں اسلام لانے والے مسافر بہادر نائر رانا کے خاندان کے آخری حکمراں جواپنی دھرتی میواتی کا حاکم تھا، ہندوستانی تاریخ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والے کرداروں میں سے ایک ہے۔
اپنی زندگی میں بھی وہ ہندوستان کے نامی گرامی سرداروں میں شمار ہوتا تھا۔ وہ تاریخ کا حقیقی کردار سمجھا جاتا ہے جس نے شہنشاہ بابر کے بجائے ہندو راجہ سانگا کی حمایت کی تھی۔ ناظم میو نے ’’ میو تاریخ کے آئینہ میں‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں بیرونی حملہ آوروں میں تغلق، لودھی اور دیگر ہندوستان کے تخت پر بادشاہی کی علیحدہ علیحدہ داستانیں لکھوائی گئی ہیں۔ تغلق اور لودھیوں کے بعد مغلوں کے مؤرث اعلیٰ ظہیر الدین بابر کے دور میں تاریخ، عجائبات عالم کی جھلک دکھائی گئی ہے ۔ انھوں نے ہندوستان کی مختلف محل و وقوع رکھنے والی ریاستوں کے کئی راجوں اور مہاراجوں کو شکست فاش دی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ گوریلا اور چھاپہ مار لڑائیوں میں موجود میواتی راجپوت قوم تھی جس نے ہندوستان میں چھاپہ مار لڑائیوں کی بنیاد رکھی۔ مصنف نے باب نمبر 4 میں میواتی قوم کا تاریخ پس منظر بیان کرتے ہوئے شیخ پال 401 ہجری سے اس باب کا آغازکیا اور کاکو رانا 650 ہجری تک اختتام کیا۔
ان اکابرین نے ساری زندگی جہاد کے نعرے کو عملی شکل دینے میں خرچ کردی تھی۔ مصنف نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بابرکا بہترین جاسوسی نظام اور جدید توپ خانے نے لودھی خاندان کو شکست دی تھی اور اس شکست میں ابراہیم لودھی کے بھائیوں کی سازشیں بھی شامل تھیں۔ روایتی طور پر رانا حسن خان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایک تقریب میں انھوں نے اپنے بیٹے کے بارے میں اپنے ایک دوست سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میر حسن اپنی قوم کی عظمت، عزت اور خود داری کے لیے جان دے دے گا مگرکسی کے سامنے نہیں جھکے گا۔ مصنف نے باب 6 اور 7میں میواتی قوم کی تاریخ کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کیا ہے۔
انھوں نے باب نمبر 9میں لکھا ہے کہ لودھی خاندان کے آخری ایام میں ہونے والی آپس کی سازشیں، جوڑ توڑ اور بھائیوں کے درمیان وراثتی جھگڑے اور آپس میں پڑنے والی پھوٹ نے شاہی نظام میں دراڑیں ڈال دیں۔ سکندر لودھی اور بھائیوں نے اپنے کارناموں سے ایسے اسباب پیدا کردیے کہ ابراہیم لودھی پانی پت کے میدان میں ظہیر الدین بابر کے لشکر سے شکست کھا کر موت کے گھاٹ اتر گیا۔ حالانکہ پانی پت کے میدان سے پہلے ہمیں راجا حسن خان میواتی اور راجا سانگا کی داستان میں اس دورکے مؤرخوں کی تحریر سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ انھوں نے دھرتی کی حفاظت کے لیے جانیں دی تھیں، بلکہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اور صرف باغی تھے۔ مؤرخوں نے انھیں باغی لکھا ہے۔ ایک غیر ملکی مسٹر الفٹیشن اس طرح رقم طراز ہیں کہ تمام مسلمانوں نے بابرکی حکومت کو تسلیم کیا۔ نواب بابر کا ہندوؤں سے لڑنا بھڑنا باقی رہا۔ میواتی کے راجا حسن خان میواتی کی رفاقت حاصل کرنے کے لیے فریقین نے بڑی بڑی کوششیں کیں۔ اس راجا کے نام سے یہ صاف واضح ہوتا ہے کہ ایک تو مسلم راجا تھا اور ملک اس کا وہ پہاڑی خطہ تھا جو دلی سے پچیس میل کے اندرکی جانب پھیلا ہوا ہے۔ اس خطے میں وہ چھوٹی سی ریاست حاصل تھی جو اب اجڑی نام پور کے نام سے مشہور و معروف ہے۔
مصنف نے باب نمبر 9میں لکھا ہے کہ ظہیر الدین بابر نے جب راجا حسن خان میواتی کو کلمہ گو بھائی کا حوالہ دیا تو اس کا جواب تھا کہ نواب صاحب میں آپ کا کلمہ گو بھائی ہوں مگر یہ بات کھل کر کہہ سکتا ہوں کہ لودھی خاندان کا ابراہیم لودھی بھی میرا اور آپ کا کلمہ گو بھائی تھا مگر آپ نے اس کا اور اس کا خاندان کا جو حشرکیا ہے، وہ سب کے سامنے ہے اور تو اور میرے باپ علاول خان کی شہادت کو آپ کس زاویے سے دیکھیں گے۔ راجہ حسن خان نے بابرکو یہ جواب دیا تھا کہ نواب صاحب تجھے ہندوستان کے تخت و تاج کی آرزو اور لالچ ہے، مجھے اپنی دھرتی کے دفاع کی فکر ہے۔ کتاب کے باب 11 میں بابر کا ’’ سجدہ عاجزانہ‘‘ کے عنوان سے تاریخ یوں بیان کی گئی ہے کہ بابر نے تزک بابری میں خود اعتراف کیا ہے کہ ’’میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ پسندی کے ساتھ دعا کی کہ ’’ اے میرے مالک میرے خدا، فتح و شکست تیری رضا سے ملتی ہے۔
میں تیرا گناہ گار ہوں، میں آج سے شراب و دیگر مکروہات چھوڑنے کا عزم و وعدہ کرتا ہوں۔ پھر کسی مکروہ حرام کو نہیں چکھوں گا۔ میرے اللہ تو ہی مجھے ایسے حالات میں فتح سے ہمکنار کرسکتا ہے تو کائنات کا خالق و مالک ہے، تو جسے چاہے سرفراز کرے۔ میرے اللہ میرے خالق میری عزت رکھ لے۔ میرے گناہوں پر نہ جا میری عاجزی قبول فرما۔‘‘ سینہ بہ سینہ ملنے والے حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ ظہیر الدین بابر نے اس دعا کے بعد شرعی داڑھی بھی رکھ لی تھی۔ دنیا نے دیکھا کہ نجومیوں کی پیشگوئیاں دم توڑ گئیں اور فتح بابرکا مقدر بن گئی جس کی شکست کی ہوائی اڑائی ہوئی تھی۔ اس طرح ہندوستان کی تاریخ کا رخ بدل گیا۔ لودھیوں کی شاہی کا تختہ الٹ گیا اور مغلوں کے مؤرث اعلیٰ ظہیر الدین بابر جس کی اولاد نے بعد میں صدیوں تک ہندوستان کے تاج و تخت پر بیٹھ کر حکومت کی اور مغل دورِ حکومت تاریخ ہند کا سنہری دور کا آغاز ہوا۔
مصنف نے اگلے ابواب میں راجا حسن خان میواتی اور رانا سانگا کے اتحاد، راجا حسن خان کی جنگی تیاریوں، سانگا اور راجا حسن خان کے درمیان آخری معرکہ پر بات چیت کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ نواب ناظم لکھتے ہیں کہ میواتی اور الورکی ریاست جرات و بہادری کی مثال کہلاتی تھیں۔ اس ریاست میں میو راجپوت قوم کی اکثریت تھی جنھیں بعض بیرونی حملہ آوروں کے خلاف لڑنا پڑا۔ برصغیر کی تاریخ میواتی الور کے جانبازوں کی بہادری کے واقعات سے پُر ہے، مگر افسوس اس امرکا ہے کہ حملہ آوروں نے ان کی بہادری کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے شایانِ شان ان کو مقام نہیں دیا۔ مصنف نے آخری حصہ میں میوات کا تاریخی جغرافیائی جائزہ لیا ہے۔ آخری باب ’’بابائے اردو مولوی عبدالحق‘‘ کے میوات کے دورکا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس آرٹیکل میں اس ناول کا انتہائی مختصر تعارف بیان کیا گیا ہے، پوری کتاب کو پڑھنے کا مزہ کچھ اور ہے۔
