ڈھاکہ۔ 12 فروری (یو این آئی): بنگلہ دیش میں جمعرات کی صبح شروع ہونے والا پولنگ کا عمل پرامن طور پر اختتام پذیر ہو گیا ہے جس کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے ۔آخری اطلاعات تک بی این پی کو 175 سے زیادہ نشستوں پر سبقت حاصل تھی جبکہ جماعت اسلامی کو 30 حلقوں میں برتری حاصل تھی۔ 300 نشستوں والی پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت کیلئے 151 نشستیں درکار ہیں۔ایک حلقہ میں ووٹنگ نہیں ہوئی ۔ ان انتخابات میں طارق رحمان کی قیادت والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور دوبارہ فعال ہونے والی جماعتِ اسلامی کی سربراہی میں 11 جماعتی اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے ۔ واضح رہے کہ 17.3 کروڑ آبادی والے ملک میں اس بار 12.7 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز تھے ، جن میں 50 لاکھ سے زائد نوجوان پہلی بار اپنا ووٹ ڈال رہے تھے۔ انتخابی مبصرین اور قبل از وقت جائزوں میں بی این پی کے رہنما طارق رحمان کو وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے ، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان کی قیادت میں بننے والا اتحاد نتائج میں بڑا الٹ پھیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
اس اتحاد میں 2024 کی تحریک سے ابھرنے والے طلبہ رہنماؤں کی ‘نیشنل سٹیزن پارٹی’ (این سی پی) بھی شامل ہے ۔ پولنگ کے دوران ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 10 لاکھ پولیس اہلکار اور فوجی جوان تعینات کیے گئے تھے ۔ طارق رحمان نے کچھ مقامات سے بے ضابطگیوں کی خبروں کے درمیان نتائج کے بروقت اعلان کا مطالبہ کیا، جبکہ شفیق الرحمان نے ملک کے مختلف حصوں میں فرضی ووٹنگ اور پولنگ ایجنٹوں پر حملوں کے الزامات عائد کیے ۔ جماعتِ اسلامی کے سربراہ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ کئی مقامات پر خواتین کو ہراساں کیا گیا اور پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کی کوششیں کی گئیں، جس پر الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے یقین دہانی کرائی کہ ان شکایات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے اپنے بیان میں ووٹرز کی بھرپور شرکت اور سیاسی جماعتوں کے ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کرتے ہوئے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ان انتخابات کو ایک ‘منظم تماشہ’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور الزام لگایا کہ محمد یونس نے غیر قانونی طریقے سے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد یہ ڈھونگ رچایا ہے ۔ ووٹنگ کے اختتام کے ساتھ ہی پریذائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں بیلٹ باکس سیل کر دیے ہیں اور غیر استعمال شدہ بیلٹ پیپرز کا ریکارڈ مرتب کر لیا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے ابتدائی سرکاری نتائج جمعہ کی دیر شام تک آنے کی امید ہے ۔
