Fri. Feb 13th, 2026

برقی جھٹکے سے تحریک پیدا کرکے انسان کم خودغرض بن سکتا ہے: نئی تحقیق

392583 1381177481


سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خودغرضی کا ایک علاج تلاش کر لیا ہے تاہم یہ وقتی طور پر ہی اثر انداز ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسروں کا خیال رکھنا انسانی دماغ میں فطری طور پر موجود ہے اور یہ تحقیق مستقبل میں باہمی تعاون سے متعلق مزید مطالعات کی بنیاد بن سکتی ہے۔

ایک تجربے میں سائنس دانوں نے دماغ کے دو حصوں کو ہلکی بجلی کے جھٹکے دے کر متحرک کیا، جس کے بعد لوگ پہلے کے مقابلے میں اپنے پیسے دوسروں کے ساتھ زیادہ خوشی سے بانٹنے لگے۔

زیورخ یونیورسٹی میں کی گئی اس نئی تحقیق میں 44 افراد سے کہا گیا کہ وہ ایک رقم میں سے کچھ حصہ خود رکھیں اور باقی ایک نامعلوم شخص کو دے دیں۔

انہیں صرف چند سیکنڈ دیے گئے تاکہ وہ دو میں سے ایک انتخاب کریں یعنی یا تو زیادہ رقم خود رکھیں یا اپنے ساتھی کو زیادہ حصہ دے دیں۔

جب شرکا یہ فیصلہ کر رہے تھے تو محققین نے دماغ کے فرنٹل لوب (دماغ کا فیصلے کرنے والا حصہ) اور پیریٹل لوب (جو ذائقہ، سماعت، نظر، لمس اور سونگھنے جیسے حواس کے لیے اہم ہے) پر برقی رو ڈالی گئی۔

یہ برقی تحریک اس طرح ترتیب دی گئی تھی کہ ان حصوں کے دماغی خلیے مخصوص انداز میں متحرک ہوں، جسے ’گاما‘ فریکوئنسی (40 سے 90 ہرٹز) یا ’الفا‘ فریکوئنسی (8 سے 12 ہرٹز) کہا جاتا ہے۔

جب زیادہ فریکوئنسی استعمال کی گئی تو شرکا زیادہ امکان کے ساتھ بے غرض فیصلہ کرتے ہوئے دوسرے شخص کو زیادہ رقم دینے لگے، چاہے اس سے ان کی اپنی کمائی کم ہی کیوں نہ ہو۔

تحقیق کے شریک مصنف اور ایسٹ چائنہ نارمل یونیورسٹی سے وابستہ جی ہو نے کہا: ’جب ہم نے مخصوص اور غیر تکلیف دہ طریقے سے دماغ کے ایک خاص نیٹ ورک میں رابطے کو بدلا تو لوگوں کے پیسے بانٹنے کے فیصلے مستقل انداز میں تبدیل ہو گئے، یعنی انہوں نے اپنے مفاد اور دوسروں کے مفاد کے درمیان توازن مختلف انداز سے قائم کیا۔‘

سائنسی جریدے PLOS Biology میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں دکھایا گیا کہ دماغی تحریک نے شرکا کی بے غرض ترجیحات کو بڑھایا اور وہ مالی فیصلے کرتے وقت اپنے ساتھی کو زیادہ اہمیت دینے لگے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مطالعے کے ایک اور شریک مصنف کرسچین رف نے کہا: ’ہم نے دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کا ایک ایسا انداز شناخت کیا ہے جو بے غرض فیصلوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس سے ہمیں بہتر سمجھ ملتی ہے کہ دماغ سماجی فیصلوں میں کیسے مدد دیتا ہے اور یہ مستقبل میں تعاون سے متعلق تحقیق کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں کامیابی لوگوں کے مل کر کام کرنے پر منحصر ہوتی ہے۔‘

اگرچہ اس تجربے میں خودغرضی پر اثرات عارضی تھے، تاہم تحقیق میں کہا گیا کہ مستقبل میں اس طریقے کو بعض ذہنی امراض کے مریضوں کی سماجی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی ریڈیو کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر رف نے بتایا کہ اگر اس کے اثرات کو طویل مدت تک برقرار رکھنا ہو تو دماغی تحریک بار بار دینا ہوگی۔

انہوں نے اس کی مثال ورزش سے دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک بار جم جانے سے جسم فٹ نہیں ہوتا لیکن اگر آپ دو ماہ تک ہفتے میں دو بار جم جائیں تو جسم بدل جاتا ہے۔ یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے۔‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *