Sun. Feb 22nd, 2026

عائشہ میراں قتل کیس بند کردیا گیا، سی بی آئی تحقیقات بے نتیجہ – Siasat Daily

TOP 9 16


دو دہائیوں سے جاری قانونی جدوجہد کا اختتام، 27 فبروری کو باقیات کی تدفین ‘عدالت کا حکم
حیدرآباد 21 فبروری (سیاست نیوز) سی بی آئی کی عدالت نے بی فارمیسی کی طالبہ عائشہ میراں قتل کیس کو باضابطہ طور پر بند کرنے احکام جاری کئے جس کے ساتھ ہی تقریباً دو دہائیوں سے جاری قانونی جدوجہد اختتام کو پہنچی۔ وجئے واڑہ میں سی بی آئی کورٹ کی مجسٹریٹ اناپورنا نے جمعہ کی شام حتمی رپورٹ کو منظور کرکے کیس کو بند کرنے کا حکم دیا۔ عائشہ میراں کو 27 ڈسمبر 2007ء کی رات ابراہیم پٹنم میں واقع خواتین کے ہاسٹل میں قتل کیا گیا تھا جس سے ریاست بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کرنے والی پولیس نے ستیم بابو کو ملزم قرار دے کر سزاء دلوائی تھی۔ تاہم آندھراپردیش ہائیکورٹ نے 2017ء میں شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے بری کردیا تھا۔ بعدازاں مقتولہ کی والدہ نے ہائیکورٹ سے کیس کی ازسرنو تحقیقات کی درخواست کی تھی۔ حکومت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی، جس نے تقریباً 11 ماہ جانچ کے بعد عدالت کو بتایا کہ نچلی عدالت میں پیش کئے گئے شواہد ضائع ہوچکے ہیں۔ اس پس منظر میں ہائیکورٹ نے 2019ء میں کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کردی تھیں۔ سی بی آئی کی تحقیقات چھ سال جاری رہی اور اکٹوبر 2025ء میں مکمل ہوئی ۔ اس دوران پولیس عہدیداروں سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی۔ مقتولہ کے اعضاء دوبارہ برآمد کرکے دوسرا پوسٹ مارٹم کردیا گیا اور تمام دستیاب شواہد کو یکجا کیا گیا۔ اپنی حتمی پورٹ میں سی بی آئی نے کہا ماضی میں جمع کئے گئے شواہد ستیم بابو کی جانب اشارہ کرتے تھے۔ تاہم ہائیکورٹ پہلے ہی انہیں مسترد کرچکی تھی۔ طویل عرصہ گزار نے کے باعث کوئی نیا ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آسکا جس کی بنیاد پر کیس بند کرنے کی سفارش کی گئی۔ کیس بند کرنے سے قبل عدالت نے عائشہ میراں کے والدین کی رائے بھی سنی۔ والدین نے عدالت کو مطلع کیا کہ وہ سی بی آئی رپورٹ کے خلاف کوئی درخواست یا نجی مقدمہ دائر نہیں کریں گے۔ اس کے بعد عدالت نے کیس بند کرنے کی منظوری دے دی۔ اسی دوران مجسٹریٹ نے متوفی کی باقیات والدین کے حوالے کرنے بھی احکام جاری کئے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ 27 فبروری کو صبح 10 بجے والدین اور سی بی آئی کے تحقیقاتی عہدیدار عدالت میں حاضر ہوں ۔ شناختی پنچنامہ مکمل کرنے کے بعد باقیات کو سرکاری نگرانی میں تینالی منتقل کیا جائے جہاں مذہبی رسومات کے مطابق آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ عدالت نے پوری کارروائی کی ویڈیو گرافی کا بھی حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ عائشہ میراں قتل کیس قانونی طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔ تاہم کئی سوالات بدستور تشنہ جواب رہ گئے۔2



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *