Mon. Feb 23rd, 2026

ٹرمپ سپریم کورٹ کی بات سننے بھی تیار نہیں – Siasat Daily

Trump 15 Percent


کل10فیصد تھا، آج 15فیصد ہوگیا، ٹروتھ سوشل پر ٹیرف بڑھانے کو قانونی قرار دیا

واشنگٹن: 22 فبروری(ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ پہنچنے والی عالمی درآمدات پر ٹیرف 15فیصد تک بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی اپنی سخت ٹیرف پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ جمعے کے روز عدالت کے ’غیرمعمولی طور پر امریکہ مخالف فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد انتظامیہ درآمدی محصولات کو 15 فیصد تک بڑھا رہی ہے جو مکمل طور پر قانون کے مطابق ہے۔‘یہ اقدام اْس سلسلے کی تازہ کڑی ہے جس میں گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ کو سامان بھیجنے والے مختلف ممالک پر مختلف شرح کے محصولات مقرر کیے گئے اور پھر انہیں تبدیل یا منسوخ کیا جاتا رہا۔کئی ممالک نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور صدر ٹرمپ کے بعد کے ٹیرف اعلانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے اتوار کو ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ تمام ممالک کے ساتھ ’یکساں سلوک‘ کریں۔نئی دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نئی سرد جنگ نہیں چاہتے، ہم کسی دوسرے ملک میں مداخلت نہیں چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام ممالک کے ساتھ برابر کا برتاؤ کیا جائے۔‘جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے سنیچر کے روز کہا کہ وہ یورپی اتحادیوں سے بات چیت کریں گے تاکہ واشنگٹن کے ساتھ مشترکہ ردّعمل کے لیے ایک واضح یورپی مؤقف طے کیا جا سکے۔پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو جو ڈیموکریٹ ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ٹرمپ سپریم کورٹ کی بات سْنیں، بے ترتیب محصولات کا خاتمہ کریں اور کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور خاندانوں کو نقصان پہنچانا بند کریں۔‘امریکی سپریم کورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر سے درآمد شدہ اشیاء پر عائد کیے گئے بھاری ٹیکسوں (ٹیرف) کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ پہنچنے والی عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے بریفنگ میں بتایا کہ وہ ٹریڈ ایکٹ 1974 کی ایک شق کے تحت نئے ٹیرف عائد کر رہے ہیں اور یہ نئے محصول پہلے سے عائد ٹیکس کے علاوہ مزید وصول کیے جائیں گے۔یہ نئے ٹیکس کچھ حد تک اْن 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیکسوں کی جگہ لیں گے جو 1977 کے ہنگامی معاشی اختیارات کے قانون کے تحت عائد کیے گئے تھے اور جنہیں اعلیٰ عدالت نے غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *