Wed. Feb 25th, 2026

پاکستان کے ایوان بالا میں ’مسلم ممالک کے خلاف نام نہاد اسرائیل-انڈیا اتحاد‘ کی مذمتی قرارداد منظور

392894 589905981


پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی ہے جس میں انہوں نے ’مسلم ممالک کے خلاف نام نہاد اتحاد بنانے کے ارادے اور انڈیا کے ساتھ اسرائیل کے اتحاد کا اظہار کیا تھا۔‘

یہ قرارداد منگل کو سینیٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کی جانب سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کے تناظر میں پیش کی گئی۔

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق وزریراعظم نریندر مودی 25 فروری کو دو روزہ دورے پر اسرائیل جا رہے ہیں۔ یہ ان کا نو سالوں میں پہلا دورہ ہو گا۔

قرارداد کے مطابق سینیٹ آف پاکستان ’اسرائیلی قیادت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات اور بیانات پر افسوس اور مذمت کا اظہار کرتی ہے جو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، جن میں حالیہ بیان بھی شامل ہے جس میں مسلم ممالک کے خلاف نام نہاد اتحاد بنانے کے ارادے اور انڈیا کے ساتھ اسرائیل کے ناپاک اتحاد کا اظہار کیا گیا۔‘

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ’جنگ بندی معاہدے کی اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، نیز 22 فروری 2026 کو اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے اس بیان کی بھی مذمت کرتا ہے جس میں انہوں نے انتہا پسند شیعہ محور کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا اور دیگر ممالک پر مشتمل ایک علاقائی اتحاد قائم کرنے کے اسرائیلی ارادے کا اظہار کیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کی مشاورتی رائے کی کھلی خلاف ورزی کی بھی مذمت کی جاتی ہے۔‘

پاکستانی سینیٹ کی جانب سے منظور کی گئی اس قرارداد میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی یا تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا گیا اور اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ممالک کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کی گئی ہے۔

قرارداد میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیلی استثنا (امپیو نٹی) کا خاتمہ کرے اور اسرائیل کو انسانیت کے خلاف جرائم اور ان اشتعال انگیز اقدامات پر جواب دہ ٹھہرائے جو تمام علاقائی ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔

 خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اتوار کو کابینہ اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ انڈین وزیر اعظم کا دورہ ’انتہا پسند‘ مخالفین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نئے اتحاد کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’جو تصور میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، اس میں ہم مشرقِ وسطیٰ کے اردگرد یا اس کے اندر اتحاد کا ایک مکمل نظام قائم کریں گے، جو بنیادی طور پر ایک ’ہیکساگون‘ یعنی چھ فریقی اتحاد ہوگا۔‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *