
(24نیوز) پاکستان کی قیادت نے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے بھی دنیا میں کسی کا دباؤ قبول نہیں کیا تھا اور اب افغانستان کا منہ توڑنے کے لئے بھی کسی کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ آج پاکستان کے وزیراعظم نے واضح کہا کہ اب سرحد پار سے دہشتگردی اور دہشتگردوں کی سرپرستی کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ اس اعلان کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بالکل ٹھیک کر رہا ہے، میں مداخلت نہیں کروں گا۔
واشنگٹن کے وائت ہاؤس میں امریکہ کے صدر صحافیوں کے ساتھ بات کر رہے تھے، ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے پاکستان کی افغانستان کے اندر جا کر دہشتگردوں اور افغان طالبان کے اڈوں پر حملے کرنے کی خبروں کے متعلق سوال کیا، صدر ٹرمپ کا جواب تھا، ” پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کررہا ہے ، میں مداخلت نہیں کروں گا۔” صحافی نےصدر ٹرمپ سے سوال کیا تھا کہ کیا آپ پاکستان اور افغانستان جنگ میں مداخلت کریں گے؟ امریکی صدر نے جواب مین یہ بھی کہا، ” میں کرتا لیکن آپ جانتے ہیں، میرے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔”
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا، “میرا خیال ہے کہ پاکستان بہت ہی شاندار طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے.” “پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کررہا ہے .” “میں مداخلت نہیں کروں گا۔”
یہ بھی پڑھیئے: افغان طالبان خوارج گٹھ جوڑ پر زیرو ٹالرنس؛ پاکستان کے خلاف کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
یہ بھی پڑھیئے: قوم نے بنیانن مرصوص کی طرح کل رات اپنی فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑی، جنرل احمد شریف
امریکی صدر ٹرمپ نے اس پر ہی بس نہیں کی، انہوں نے یہ بھی کہا، “پاکستان کے پاس عظیم وزیراعظم اور جنرل ہیں ، عظیم قیادت ہے. یہ وہ دو شخصیات ہیں جن کی میں واقعی بہت زیادہ عزت کرتا ہوں۔”
دنیا میں اس وقت برننگ ایشو تصور کئے جا رہے معاملہ پر سوالات کے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ میں ایران سے خوش نہیں ہوں مگر جمعہ تک مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ میں ایران کے ساتھ ڈیل کو بنانا چاہتا ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ میں ایران کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتا مگر کبھی کبھار طاقت استعمال کرنا پڑتا ہے۔
پاکستانی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا تسلسل
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ امریکہ کے صدر پاکستان کے وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سر عام گرمجوشی کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے۔ 9 مئی کو بھارت کی پاکستانی ائیر بیسز پر جارحیت کے جواب میں پاکستان کے آپریشن بنیانن مرصوص کے بعد سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر اہم موقع پر پاکستان کی ان دو شخصیات کی پبلکلی تعریفیں کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی افغانستان کے حوالے سے پالیسی کے تناظر میں افغانستان سے دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کی غرض سے پاکستان کے راست اقدام کو ٹرمپ کی حمایت ملنا پاکستان کے لئے آپریشن غضب للحق کے آغاز میں اہم سفارتی کامیابی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: سیمی فائنل کھیلنے کیلئےسری لنکا سے میچ کتنے مارجن سے جیتنا ہے؟ ماہرین نے ٹارگٹس بتا دیئے
