حملوں میں برطانیہ کا کوئی رول نہیں ۔ وزیر اعظم اسٹارمر کا بیان ۔ حملے غیر قانونی اور بلا اشتعال ۔ گرینس پارٹی لیڈر کا بیان
لندن : 28 فبروری ( ایجنسیز ) وزیر اعظم برطانیہ سر کئیر اسٹارمر نے مشرق وسطی میں فوجی کارروائیوںکو مزید وسعت دینے کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ حالات کو جلد معمول پر لایا جانا چاہئے ۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں حصہ نہیں لیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ برطانوی طیارے آج آسمان میں ہیں تاکہ ہمارے عوام کو ‘ ہمارے مفادات کا اور ہمارے حلیفوں کا تحفظ کیا جاسکے ۔ وزیر اعظم برطانیہ نے ایرانی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ اس حکومت کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ اسٹارمر نے کہا کہ آج صبح امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے سارے علاقہ میں کئی ممالک کے خلاف جوابی فضائی حملے کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ کے معصوم عوام کے مستقبل اور ان کی سلامتی کے تعلق سے برطانیہ فکرمند ہے ۔ ان میں کئی امریکی دوست اور خاندان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں برطانیہ کا کوئی رول نہیں ہے ۔ وزیر اعظم برطانیہ نے ایرانی حکومت کو مکروہ قرار دیا اور کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے خیال رہا ہے کہ اس حکومت کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ اسٹارمر نے کہا کہ وہ علاقہ کے مختلف ممالک میں ہمارے شراکت داروں پر کئے گئے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ایسے ممالک پر بھی حملے کئے گئے جو اس تنازعہ کے فریق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام ممالک سے اور مشرق وسطی میں ہمارے حلیف ممالک سے برطانیہ اظہار یگانگت کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج سرگرم ہیں اور برطانوی طیارے فضاء میں ہیں تاکہ ہمارے مفادات ‘ عوام اور حلیفوں کا تحفظ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم برطانوی اڈوں اور عملہ کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ ہم علاقہ میں پھنسے برطانوی عوام تک رسائی حاصل کر رہے ہیں اور ان کی مدد کی جا رہی ہے ۔ اس دوران برطانوی گرینس پارٹی کے لیڈر زیک پولانسکی نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو غیرقانونی قرار دیا اور کہا کہ یہ بلااشتعال کی گئی فوجی کارروائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہیمانہ حملہ تھا جو امریکہ اور اسرائیل نے مسلط کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات اور اسرائیل کی مکمل تائید پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔
