Mon. Mar 2nd, 2026

جنگ کے اثرات، پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی مندی

393094 48230082


ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جنگ کا دائرہ کار پھیل رہا ہے اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے دن (آج پیر کو) شدید مندی کے باعث ابتدار میں کاروبار عارضی معطل کر دیا لیکن ایک گھنٹے کے بعد کاروبار کے دوبارہ شروع ہوا تو انڈیکس میں 1344 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ٹریڈنگ ہو رہی ہے۔  

کاروباری ہفتے کے پہلے دن مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی اور بھاری فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 15 ہزار سے زیادہ پوائنٹس کی کمی کے بعد 152,991 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔

کراچی سٹاک ایکسچینج (کے ایس ای) 30 انڈیکس میں تقریباً 9.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ 

اس غیر معمولی مندی کے بعد قواعد کے مطابق کاروبار60 منٹ کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔

اس وقفے کے بعد پانچ منٹ کا پری اوپن سیشن ہوا اور پھر دوبارہ ٹریڈنگ شروع ہوئی۔

مارکیٹ میں مندی کا رجحان

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے معاشی ماہر شہریار بٹ نے کہا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں سٹاک مارکیٹ میں اس نوعیت کی شدید گراوٹ پہلے کبھی دیکھنے میں آئی۔‘ 

ان کے مطابق اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیا کی بڑی مارکیٹس بھی مندی کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجہ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ انڈین اور جاپان کی مارکیٹس بھی دباؤ میں ہیں، جبکہ مڈل ایسٹ کی مارکیٹس بھی دو دن کے لیے بند کر دی گئیں ہیں۔ 

’اور انہی عالمی رجحانات کے اثرات پاکستان سٹاک مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔‘

شہریار بٹ کا کہنا تھا کہ عالمی عوامل کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے داخلی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ 

’ان میں افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، آئی ایم ایف کے وفد کی آمد اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محصولات کےاہداف میں 429 ارب روپے کی کمی شامل ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’مجموعی طور پر مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال ہے، جس کے اثرات خطے سمیت عالمی معیشت پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 سابق ڈائریکٹر پاکستان سٹاک ایکسچینج ظفر موتی نے مارکیٹ میں شدید مندی پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ ’ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال نے پورے مشرق وسطیٰ کو غیریقینی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی منڈیوں کے علاوہ مقامی سٹاک مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ آنا غیر معمولی بات نہیں ہے۔ 

تاہم موجودہ کاروباری ماحول خاصا غیر یقینی ہے اور حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ 

’اگر یہ کشیدگی طویل مدت تک برقرار رہی تو منڈی پر اس کے مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

ظفر موتی نے مزید کہا کہ ’دوسری جانب آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور امید ہے کہ پاکستان کو کچھ نہ کچھ سہولت حاصل ہو جائے گی۔

’تاہم اس سہولت کی نوعیت اور حجم کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔‘

ان کے مطابق دنیا اس وقت بڑے معاشی اور سیاسی مسائل سے گزر رہی ہے اور جنگ یا کشیدگی کے اثرات بالآخر ان ممالک پر بھی پڑتے ہیں جن کا اس صورتحال سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق ہوتا ہے۔‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *