’پاکستان سائبر فورس‘ کے نام سے سرگرم ایک گروپ نے پیر کو انڈین نیوز چینل اے بی پی نیوز کو ہیک کر لیا، جس کے دوران چینل پر پاکستان آرمی کے حق میں مواد نشر کیا گیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ کارروائی ایک دن قبل پاکستانی نیوز چینلز پر ہونے والے سائبر حملوں کے جواب میں کی گئی۔
ریڈیو پاکستان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان سائبر فورس‘ نے یہ ’جوابی حملہ‘ ہندی نیوز چینل اے بی پی نیوز کو ہیک کر کے کیا، جس دوران پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تقاریر کے اقتباسات اور پاکستان فوج سے متعلق دیگر مواد نشر ہوتا رہا۔ نشریات کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے بھی سنائی دیے۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اتوار کو پاکستان کے معروف نیوز چینل جیو نیوز کو بھی ہیک کیا گیا تھا، عین اس وقت جب اس کا رات نو بجے کا بلیٹن شروع ہونے والا تھا۔
ہم اپنےناظرین کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں،،، کہ جیو نیوز ،،،جو پاکستان کے سیٹلائٹ ،،،پاک سیٹ پر ہے،،،،اس کو کسی جانب سے پچھلے چوبیس گھنٹوں سے ہیک کرنے کی اور اس کی نشریات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے،،،اور اب کچھ دیر سے جیو نیوز کی نشریات کو مسلسل رکاوٹ کا سامنا ہے،جیو نیوز…
— Azhar Abbas (@AzharAbbas3) March 1, 2026
جیو نیوز کے منیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے ہیکنگ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ’نامعلوم عناصر‘ کی جانب سے چینل کی نشریات میں خلل ڈالنے کے لیے بار بار سائبر حملے کیے جا رہے تھے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جیو نیوز کی نشریات کچھ وقت سے مسلسل متاثر ہو رہی ہیں اور سکرین پر ایک نامناسب پیغام نشر کیا گیا، جس سے چینل کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
پاکستانی انگریزی نیوز ویب سائٹ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جیو نیوز کے علاوہ اے آر وائی نیوز اور سما نیوز سمیت دیگر مقامی چینلز کو بھی ہیک کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نشریات کے دوران پاکستان کی فوج اور اس کی قیادت کے خلاف تنقیدی پیغامات دکھائے گئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق بعض پاکستانی نیوز چینلز کی ویب سائٹس کو مبینہ طور پر موساد کے حق میں گوگل اشتہاری مہم چلانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
یہ تمام واقعات ایک ایسے پس منظر میں پیش آئے ہیں جب ہفتے کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا، جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ حملوں میں ایران کو نشانہ بنایا، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان حملوں کے ساتھ ساتھ سائبر آپریشنز کی ایک لہر بھی دیکھی گئی، جس دوران متعدد ایرانی نیوز ویب سائٹس ہیک کر کے مختلف پیغامات شائع کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پانچ ملین سے زائد ڈاؤن لوڈز رکھنے والی ایرانی مذہبی کیلنڈر ایپ ’بادِ صبا‘ کو بھی ہیک کر کے صارفین کو پیغامات دکھائے گئے، جن میں کہا گیا تھا: ’احتساب کا وقت آ گیا ہے‘ اور مسلح افواج سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی گئی تھی۔
سائبر حملوں کے اس تازہ سلسلے نے خطے میں ڈیجیٹل محاذ پر کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے، جب کہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تحقیقات یا جوابی اقدامات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
