
(24 نیوز)مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے پیش نظر فٹ بال ورلڈ کپ سمیت کئی بڑے ایونٹس غیریقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں، سیکیورٹی خدشات کے باعث کھیلوںکی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
27 مارچ کو قطر میں شیڈول سپین اور ارجنٹینا کے درمیان فائنالیسیما فٹ بال میچ کے انعقاد پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اسی طرح پرتگالی اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کے کلب النصر کو بھی منسوخیوں کی لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فارمولا 1 کی اگلے ماہ بحرین اور سعودی عرب میں ہونے والی ریسز بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں کیونکہ ٹیمیں عام طور پر ہفتوں پہلے عملہ اور سامان روانہ کرتی ہیں، عالمی موٹر سپورٹس ادارے ایف آئی اے نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
ایران کی قومی فٹ بال ٹیم کو آئندہ ورلڈ کپ کے لیے امریکا جانا ہے، تاہم موجودہ کشیدگی کے باعث اس بات پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں کہ آیا ایران ٹورنامنٹ میں شرکت کر سکے گا یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ کھلاڑیوں اور ٹیموں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانا ہے، اٹلی میں شروع ہونے والے سرمائی پیرا ولمپکس میں شرکت کرنے والے بعض ایتھلیٹس کو بھی سفری مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کئی ٹیمیں پہلے ہی یورپ پہنچ چکی ہیں۔
اگر ایران ورلڈ کپ سے دستبردار ہوتا ہے تو اس کی فٹ بال فیڈریشن کو کم از کم 10.5 ملین ڈالر کی آمدن سے محروم ہونا پڑے گا، قوانین کے تحت ٹورنامنٹ سے دستبرداری پر بھاری جرمانے بھی عائد ہوسکتے ہیں اور آئندہ 2030 ورلڈ کپ کی کوالیفائنگ سے بھی خارج کیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔
ممکنہ طور پر ایران کی جگہ ایشیا سے عراق یا متحدہ عرب امارات کو موقع دیا جا سکتا ہے تاہم حتمی فیصلہ عالمی فٹ بال تنظیم فیفا کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاست کے اثرات کھیلوں کی دنیا تک بھی پہنچتے ہیں اور بڑے اسپورٹس ایونٹس بھی جغرافیائی کشیدگی سے محفوظ نہیں رہتے۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان ہاکی ٹیم کی انٹرنیشنل رینکنگ میں بہتری ہوگئی
