یونیسیف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک نمبر نہیں بلکہ ایک پوری نسل کا مستقبل ہے جو خطرے میں ہے۔
پاکستان میں آئین کا آرٹیکل 25 A ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق دیتا ہے، لیکن زمینی حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان کے جی ڈی پی کا تقریباً 1.5 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے، جو کہ یونیسکو اور ایس ڈی جی 4 کے مقرر کردہ چار سے چھ فیصد کے معیار سے بہت کم ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 2024-2025 کے مطابق یہ شرح مزید کم ہو کر صرف 0.8 فیصد رہ گئی ہے۔
نتیجہ؟ ہزاروں سکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے بجلی، پانی اور باتھ روم موجود نہیں، اور کئی علاقوں میں سکول ہی موجود نہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم پر سنگین اثر
یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق جو ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے ان میں تقریباً 53 فیصد لڑکیاں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کئی علاقوں میں مڈل یا ہائی سکول موجود نہیں، سکیورٹی کے مسائل ہیں، کم عمری کی شادیاں ہوتی ہیں اور خواتین اساتذہ کی کمی ہے۔ ’یہ بحران صرف تعلیمی نہیں بلکہ صنفی برابری کا بھی مسئلہ ہے۔‘
مہنگائی، غربت اور بچوں کی محنت
پاکستان کی ترقی و منصوبہ بندی کی وزارت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 فیصد لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی خاندانوں کے لیے یہ فیصلہ مشکل ہے کہ بچہ سکول جائے یا گھر کا خرچ چلانے میں مدد کرے۔ اس کے نتیجے میں بچوں کی محنت اور چائلڈ لیبر کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
موسمیاتی تبدیلی کا اثر
کلائیمیٹ چینج اور بارش و سیلاب نے تعلیمی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق 2022 کے سیلاب سے پاکستان میں 27 ہزار سکول تباہ ہوئے جن سے لاکھوں بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔
اس کا حل کیا ہے؟
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان دنیا میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔
ماہرین اس مسئلے کے چند حل کچھ یوں بتاتے ہیں:
• تعلیم کے لیے زیادہ بجٹ مختص کرنا
• لڑکیوں کے لیے محفوظ سکول بنانا
• ماہر اساتذہ کی بھرتی اور تربیت
• موسمیاتی لحاظ سے محفوظ تعلیمی عمارتیں
• کمیونٹی اور والدین کو تعلیم میں شامل کرنا
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے حال ہی میں ’کوئی بچہ پیچھے نہ رہے‘ نامی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں سکول سے باہر تمام بچوں کو اگلے تین سال میں کلاس روم میں لایا جا سکے۔
ملک کے دیگر صوبے بھی ایسے اہداف بنا چکے ہیں، لیکن اس پر عمل ہی ان پالیسیوں کو کامیاب بنائے گا۔ کیوں کہ پالیسیاں تو ماضی میں بھی بنتی رہی ہیں، ان پر عمل درآمد شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
