(ویب ڈیسک) ایران نے آبنائے ہرمز میں جنگ سے لاتعلق ممالک کے جہازوں پر حملوں میں اضافہ کے بعد خام تیل کی ترسیل میں رکاوٹ بڑھ گئی ہے اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔
ایران جنگ شروع ہوتے ہی کروڈ آئل کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے بڑھنا شروع ہو گئی تھی اور پیر کے روز کروڈ آئل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ پھر اسی روز ٹرمپ کے اس اعلان سے واپس 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی تھی کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ جلد بند کر دے گا۔ ٹرمپ کے جنگ جلد بند کرنے کے امیدافزا اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی اجازت نہین دین گے۔ اس کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے آدھا لٹر تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے۔ اس اعلان کے بعد پاسداران نے تھائی لینڈ، جاپان اور یونان کے کم از کم تین جہازوں پر حملے کئے جن پر تیل لدا ہوا تھا۔ پاسداران نے ان حملوں کی پہلی مرتبہ اعلانیہ ذمہ داری بھی لی۔
کل ہی انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اپنے رکن ممالک کے ساتھ طے کر کے اعلان کیا کہ رکن ممالک اپنے اپنے سٹریٹیجک ریزروز میں سے 40 کروڑ بیرل کروڈ آئل استعمال کے لئے نکالیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ توقع کی جا رہی تھی کہ اس سے مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمتوں میں قدرے کمی آئے گی اور استحکام آئے گا لیکن اس کے برعکس ہوا۔ مارکیٹ نے چالیس کروڑ بیرل تیل کے ذخائر استعمال میں لانے کے اعلان کا کوئی اثر نہیں لیا اور آبنائے ہرمز کی سنگین صورتحال نے قیمتیں ایک بار پھر بڑھاتے بڑھاتے کروڈ آئل کو 100 ڈالر فی بیرل کا لینڈ مارک عبور کروا دیا۔
کروڈ آئل کی قیمتوں میں نئے سرے سے ابھار کا سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ مشرق وسطی کا تنازعہ متعدد محاذوں پر بڑھ رہا ہے، اور ایران عالمی توانائی کی سپلائیوں اور اس کے پڑوسیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ایران جنگ سے متعلق خاص واقعات
انٹرنیشنل میڈیا میں ایران جنگ سے متعلق جو درجنوں واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں ان میں سے کچھ خاص واقعات یہ ہیں۔
بحرین میں تیل کے ڈپو میں آگ: ایرانی حملے کے بعد بحرین میں ایندھن کے ڈپو میں آگ لگ گئی۔
بحرین نے نیشنل کمیونیکیشن سنٹر نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے ۔ اس ویڈیو میں بحرین کے محراق میں ایندھن کے ذخیرہ میں آگ لگی نظر آ رہی ہے۔ بحرین نیشنل کمیونیکیشن سینٹر کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ فائر فائٹرز ایرانی حملے کے بعد محراق میں ایندھن کے ذخیرہ کرنے کی سہولت میں بڑی آگ سے لڑ رہے ہیں۔
قبل ازیں، بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ ایرانی حملوں نے جمعرات کی صبح مملکت کی شمالی گورنری میں واقع فیول ٹینکوں کو نشانہ بنایا اور چار قریبی قصبوں اور دیہاتوں کے رہائشیوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور اپنی کھڑکیاں بند کر لیں۔

ٹینکروں کو آگ لگا دی گئی: ایران نے عراقی پانیوں میں دو غیر ملکی آئل ٹینکروں پر حملوں کے ساتھ توانائی کی سپلائی پر جوابی حملوں کو تیز کر دیا ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں ایک اور بحری جہاز کو حادثہ پیش آیا ہے، جو کہ گزشتہ دو دنوں میں چھٹا ہے۔
تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل (دوبارہ): تیل راتوں رات $100 سے اوپر چڑھ گیا۔ یہ چھلانگ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی جانب سے عالمی منڈی میں ذخائر سے ریکارڈ 400 ملین بیرل تیل چھوڑنے پر رضامندی کے باوجود آئی ہے۔
ٹرمپ کا مکمل فتح کا دعویٰ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اس دعوے کو دہرا رہے ہیں کہ امریکہ نے جنگ جیت لی ہے، یہاں تک کہ تنازعہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ “یہ صرف اس بات کی ہے کہ ہم کب روکیں گے؟” انہوں نے کہا.
لڑکیوں کے سکول پر بمباری کا اعتراف: امریکی فوج نے 28 فروری کو غلطی سے ایک ایرانی ایلیمنٹری اسکول کو نشانہ بنایا تھا۔ ابتدا میں امریکہ نے ایسے کسی حملے سے انکار کیا تھا۔ اب امریکہ کے سرکاری ذرائع نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ یہ سکول ممکنہ طور پر قریبی بحری اڈے کے بارے میں پرانی معلومات کی وجہ سے میزائل کا نشانہ بن گیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، اس میزائل حملے میں کم از کم 168 بچے اور 14 ٹیچر مارے گئے۔
ایرانی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے 3 مطالبات پیش کر دیئے
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بدھ کی شام جنگ کے خاتمے کے لیے تین شرائط پیش کر دیں۔ جن میں “ایران کے جائز حقوق” کو تسلیم کرنا، معاوضے کی ادائیگی اور مستقبل کی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کرنا شامل ہیں۔
یہ پہلا موقع تھا جب ایران کے صدر نے سطح پر جنگ کے خاتمے کے لیے مخصوص شرائط کا خاکہ پیش کیا تھا۔
مسعود پیزشکیان نے سوشل پلیت فارم X پر اپنا بیان پوسٹ کیا۔ اس بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے جائز حقوق، معاوضے کی ادائیگی اور مستقبل کی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں ہیں۔
پاکستان اور روس کے رہنماؤں سے پیزشکیان کی بات چیت کا حوالہ
مسعود پیزشکیان کے اس شرائط پیش کرنے کو مغربی میڈیا میں ایران کی میڈیا کیمپین کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ ایران نے علاقائی اقتصادی اور فوجی اہداف کے خلاف جوابی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ صدر پیزشکیان نے کہا کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے ایران کے “امن کے عزم” کی تصدیق کے لیے بات کی ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف جمعرات کو ایک مختصر دورے کے لیے سعودی عرب گئے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کا یہ ہنگامی وزٹ جنگ بند کروانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
