Sun. Mar 15th, 2026

امریکہ حملوں کیلئے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے: عباس عراقچی – Siasat Daily

awal 6 1


آبنائے ہْرمز کھلوانے کیلئے امریکہ چین سے بھیک مانگنے پر مجبور‘ امریکہ سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں

تہران ۔15 ؍مارچ ( ایجنسیز )ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کم فاصلے پر مار کرنے والے راکٹوں سے ہمارے پڑوسیوں کی سر زمین سے حملے کیے۔ اب یہ بالکل واضح ہوگیا کہ امریکہ حملوں کے لیے ہمارے پڑوسیوں کی سر زمین استعمال کر رہا ہے۔امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی ایندھن تنصیبات یا انفرا اسٹرکچر کو اگر نشانہ بنایا گیا تو ردعمل بہت واضح ہوگا۔ ایرانی فورسز خطہ میں امریکی یا متعلقہ ایندھن، انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہْرمز کھلوانے کیلئے امریکہ چین سے بھیک مانگنے پر مجبور ہورہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ رات خارگ اور ابو موسیٰ جزائر پر جدید راکٹ سسٹم سے حملے کیے گئے۔ امریکہ نے کم فاصلے پر مار کرنے والے راکٹوں سے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین سے حملے کیے۔ ہمارے لیے یہ بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ایران نے اسرائیل پر نئے جدید ترین میزائلوں سے حملہ کیا ہے اور اس نے امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنایا ۔عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ رات والے حملوں کو ہماری فورسز نے ٹریک کیا تو پتہ چلا کہ یہ حملے متحدہ عرب امارات سے کیے گئے۔ حملے متحدہ عرب امارات کی دو جگہوں راس الخیمہ اور دبئی کے نزدیک سے کیے گئے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بہت خطرناک بات ہے کہ اتنی زیادہ آبادی والے علاقوں سے ہم پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ہم ان حملوں کا جواب ضرور دیں گے لیکن ہم خیال رکھیں گے کہ آبادی والی جگہوں کو نشانہ نہ بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکہ سے بات چیت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، ہم مستحکم اور مضبوط ہیں۔ ہم صرف اپنے لوگوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ امریکہ سے بات چیت کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔عباس عراقچی نے کہا کہ ہم امریکہ سے کیوں بات کریں؟ جب ہم بات چیت کر رہے تھے تو امریکہ نے ہم پر حملہ کر دیا۔ امریکہ سے بات چیت کا کوئی اچھا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہْرمْز سے گزرنے کے لیے متعدد ممالک نے ہم سے رابطہ کیا ہے۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *