سابق انڈین کرکٹر سنیل گواسکر نے ایک انڈین فرنچائز کے پاکستانی سپنر ابرار احمد سے انگلینڈ کی لیگ دی ہنڈرڈ کے لیے معاہدہ کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔
گواسکر نے اپنے ایک کالم میں دعویٰ کیا کہ کسی پاکستانی کھلاڑی کو دی جانے والی فیس بالواسطہ طور پر انڈین شہریوں اور فوجیوں کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق، جب ایسے کھلاڑی اپنے ملک میں ٹیکس ادا کرتے ہیں تو وہ رقم ریاستی اخراجات کا حصہ بنتی ہے، جسے وہ انڈیا کے خلاف استعمال ہونے والا قرار دیتے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب سن رائزر(Sunrisers Leeds) جو کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ٹیم سن رائزر حیدر آباد (Sunrisers Hyderabad) کے مالکان کے گروپ سے منسلک ہے، نے ابرار احمد کو تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔
اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی کھلاڑیوں نے 2009 کے بعد سے انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت نہیں کی، جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات ہیں تاہم، انگلینڈ میں ہونے والی اس لیگ میں کھلاڑیوں کے انتخاب کو کارکردگی کی بنیاد پر قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے بھی واضح کیا۔
دوسری جانب، کچھ دیگر فرنچائزز جیسے کہ مانچسٹر سپر جائنٹس (Manchester Super Giants)، ممبئی انڈینز لندن ((MI London اور سدرن بریو (Southern Brave) بھی جزوی طور پر انڈین کمپنیوں کی ملکیت ہیں، مگر انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کے حوالے سے مختلف حکمت عملی اختیار کی۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ تعلقات ایک طویل عرصے سے محدود ہیں، اور دونوں ٹیمیں صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں ہی مدمقابل آتی ہیں۔ ایسے میں گواسکر کا یہ بیان ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے کہ آیا کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔
گاوَسکر نے اپنے کالم کے اختتام پر کہا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے، اور امید ظاہر کی کہ ذمہ داران اس معاملے پر دوبارہ غور کریں گے۔
