اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان کے بعد جانبداری کے الزامات سامنے آ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یو این ہیومن رائٹس کے آفیشل اکاؤنٹ نے پاکستان کی جانب سے کابل پر مبینہ حملے سے متعلق ایک بیان جاری کیا، جس میں تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
صارفین کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے نے یکطرفہ مؤقف اپنایا اور ان واقعات کو نظر انداز کیا جو افغانستان سے پاکستان کے اندر پیش آ رہے ہیں۔ کئی صارفین نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کے بیانات سے غلط معلومات اور پروپیگنڈے کو فروغ ملتا ہے۔
بعض صارفین نے مطالبہ کیا کہ کابل واقعے کی تحقیقات سے پہلے افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں، جیسے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جائے۔
سوشل میڈیا پر یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ انسانی حقوق کے اصول سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں اور عالمی اداروں کو ہر واقعے پر متوازن ردعمل دینا چاہیے۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ جیسے معتبر ادارے سے وابستہ اکاؤنٹ کا یکطرفہ بیان دینا قابلِ تشویش ہے، جبکہ خطے میں سرحد پار دہشتگردی کے معاملات پر خاموشی بھی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
کچھ حلقوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کابل میں ہسپتال پر حملے اور ہلاکتوں سے متعلق بعض اطلاعات کو مقامی سطح پر پہلے ہی مسترد کیا جا چکا ہے، تاہم اس حوالے سے آزادانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
