
(24نیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے فوجی اہداف کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی اور ممکنہ آئندہ اقدامات کا ذکر کیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا کی کوشش ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر کمزور کر دیا جائے، جس میں میزائل سسٹمز، لانچرز اور ان سے متعلق دیگر تمام پہلو شامل ہیں۔
“We are getting very close to meeting our objectives as we consider winding down our great Military efforts in the Middle East with respect to the Terrorist Regime of Iran…” – President Donald J. Trump pic.twitter.com/YBG9l492Kf
— The White House (@WhiteHouse) March 20, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بھی ہے تاکہ اس کی عسکری طاقت کو محدود کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو بھی غیر مؤثر بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سکھر میں اندوہناک واقعہ : گھر میں گھس کر فائرنگ، 4 سگے بھائی قتل، ایک زخمی
صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قریب بھی نہیں آنے دے گا اور اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو امریکا فوری اور بھرپور ردعمل دینے کی پوزیشن میں ہوگا۔
اپنے بیان میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک جیسے اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کے تحفظ کو بھی امریکی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی سلامتی کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس اہم بحری راستے کی نگرانی اور سیکیورٹی ان ممالک کو خود کرنی چاہیے جو اس راستے کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ امریکا براہِ راست اس کا استعمال نہیں کرتا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ان ممالک کی مدد کر سکتا ہے، لیکن ایران کا خطرہ ختم ہونے کے بعد ایسا کرنا ضروری نہیں رہے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ یہ تمام فوجی اقدامات متعلقہ ممالک کے لیے آسان ثابت ہو سکتے ہیں اور امریکا اپنے اہداف کے حصول کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی سرگرمیوں کو کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
