
(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات پر ایران کے حملوں کے درمیان امارات کے سینئیر سفارت کار انور غرغاش نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ مشکل کے وقت کس پر بھروسہ کر سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر برائے سفارتکاری، ڈاکٹر انور غرغاش نے متحدہ عرب امارات پر ایران کے حملوں کے متعلق بین الاقوامی ردعمل میں واضح تضادات کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے کہا، کچھ ممالک صرف ‘بغیر کارروائی کے بیانات’ پیش کرتے ہیں۔
خلیج ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا، متحدہ عرب امارات نے جاری ایرانی جارحیت کے مقابلہ میں لچک اور وضاحت کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، اعلیٰ اماراتی سفارت کار ڈاکٹر انور غرغاش نے بین الاقوامی ردعمل میں تضاد کو اجاگر کیا اور کہا، یہ ردعمل “حقیقی حمایت” سے لے کر “بغیر کارروائی کے محض بیانات” تک ہیں۔
سوشل پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں، ڈاکٹر انور غرغاش نے کہا کہ جس چیز کو انہوں نے “وحشیانہ ایرانی جارحیت” کے طور پر بیان کیا ہے، اس کے آغاز کے بعد سے، دوست ممالک نے رابطے کئے، لیکن ان کے موقف مختلف تھے۔
انہوں نے کہا، “کچھ نے مخلصانہ حمایت کی پیشکش کی جس کی تعریف کی گئی، جب کہ دوسروں نے بغیر کارروائی کے خود کو بیانات تک محدود رکھا،” ڈاکٹر غرغاش نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات نے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ثابت قدم رہنے کی اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔ امارات کے سینئیر سفارت کار نے اس بات پر زور دیا کہ بحران کے وقت سب سے اہم چیز صرف وسائل نہیں بلکہ (پوزیشن کی)وضاحت ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران نے اسرائیل کے سب سے بڑے الیکٹرک پاور پلانٹ پر میزائل فائر کر دیا
“متحدہ عرب امارات نے جواب دینے اور برداشت کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسے تعداد اور آلات کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی اسے پوزیشنوں کی وضاحت اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ مشکل کے وقت کس پر انحصار کیا جا سکتا ہے،” ڈاکٹر غرغاش نے نوٹ کیا۔
خلیج ٹائمز کے مطابق 24 مارچ تک، متحدہ عرب امارات نے ایران سے تقریباً 2,200 پروجیکٹائل حملوں کا سامنا کیا ہے۔
اسلامی ممالک اور علاقائی تنظیموں کے کردار پرسوالات
اس سے پہلے کی ایک پوسٹ میں، ڈاکٹر غرغاش نے علاقائی اداروں (مسلم ممالک کی تنظیموں) اور بڑی طاقتوں کے ردعمل پر سوالات اٹھائے تھے کیونکہ ان کے الفاظ میں خلیجی ممالک اس “وحشیانہ ایرانی جارحیت” کا نشانہ بنے تھے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کو عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت مشترکہ عرب اور اسلامی اداروں کے کردار پر سوال اٹھانے کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس (مدد کی ضرورت کے وقت)عدم موجودگی اور نااہلی میں، بعد میں عرب اور اسلامی کردار میں کمی کی بات کرنا یا امریکی اور مغربی موجودگی پر تنقید کرنا مناسب نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک خوشحالی کے دور میں طویل عرصے سے دوسروں کے ساتھ شراکت دار ہیں۔
’’تو آج مشکل کے وقت آپ کہاں ہیں؟‘‘
