ہندوستان اور ایران کے درمیان ’ایندھن تجارت‘ کے نئے باب کا آغاز
نئی دہلی ۔27؍مارچ ( ایجنسیز )ایران اور ہندوستان کے درمیان ’ایندھن تجارت‘ ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔ ایک ہفتہ میں ایران سے ایل پی جی کا پہلا جہاز ہندوستان پہنچنے کی توقع بھی ہے۔ایک عرصہ سے ایران سے تیل کی درآمد تقریباً بند تھی کیونکہ اسی عرصہ میں امریکہ نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے باعث ہندوستان کو مجبوراً درآمد روکنی پڑی تھی۔ تاہم حالیہ جنگ کے بعد امریکہ نے تہران کے خام تیل پر عائد کچھ پابندیاں ہٹا دی ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی تجارت دوبارہ شروع ہوتی نظر آ رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی ایل پی جی کی پہلی کھیپ اسی ہفتہ پہنچنے والی ہے اور آنے والے دنوں میں خام تیل اور ایل پی جی کی مزید کھیپ آنے کی امید ہے۔ اطلاعات کے مطابق تیل صاف کرنے والی کمپنیاں نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں تاکہ جلد از جلد زیادہ مقدار میں خام تیل اور ایل پی جی منگوایا جا سکے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ قلیل مدت میں کتنی سپلائی حاصل ہو سکے گی۔ڈاٹا کمپنی کے مطابق انڈین آئل کارپوریشن نے آخری بار جون 2018 میں ایران سے ایل پی جی کی خریداری کی تھی۔ اس بار آنے والی کھیپ میں تقریباً 43,000 ٹن بیوٹین اور پروپین گیس شامل ہے۔ یہ مقدار ہندوستان کی صرف آدھے دن کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے جہاں ایل پی جی کا استعمال عموماً کھانا پکانے کیلئے کیا جاتا ہے۔ ملک اپنی مجموعی ضرورں کا تقریباً دو تہائی حصہ بیرون ملک سے منگاتا ہے، جس میں سے 90 فیصد حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔ یہ سپلائی بیشتر آبنائے ہرمز کے ذریعہ ہوتی ہے، جو جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً بند ہو گیا تھا۔ہندوستان اپنی ایل پی جی کی مجموعی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد ہندوستان میں گھریلو ایل پی جی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے مجموعی کھپت کا تقریباً 56 فیصد حصہ پورا ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود درآمد کی ضرورت برقرار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں ہندوستان کی مجموعی کھپت 2.82 ملین میٹرک ٹن رہی۔ ایل پی جی کی سپلائی کو خام تیل سے بھی زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ملک میں اس کا بنیادی استعمال کھانا پکانے کیلیے ہوتا ہے۔انرجی ڈاٹا کمپنی ’وورٹیکسا‘ کے شپنگ اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ سے 18 مارچ کے درمیان ہندوستان کی خام تیل کی درآمد گزشتہ ماہ کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 23 فیصد کم رہی۔ اگر آبنائے ہرمز پورے مہینے بند رہتی ہے تو ماہرین کے مطابق مارچ میں خام تیل کی درآمد تقریباً 20 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔
