Sat. Mar 28th, 2026

کراچی: این ای ڈی انجینیئرز نے ڈرائیور لیس کار تیار کر لی

393902 1216833915


این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے انجینیئرز نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے پاکستان کی پہلی خودکار (بغیر ڈرائیور) گاڑی کی کامیاب آزمائشی ڈرائیو مکمل کر لی ہے۔

جب ڈرائیونگ کی ذمہ داری انسان کے بجائے جدید ٹیکنالوجی سنبھال لے اور سڑک پر ہونے والے فیصلے انسانی اندازوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کی درستگی سے طے ہوں، تو اسے ڈرائیور لیس کار کہا جاتا ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے سمارٹ سٹی لیب ریسرچ گروپ کے سربراہ پروفیسر خرم کے مطابق ان کی ٹیم نے ایک جدید خودکار (Autonomous) گاڑی کا کامیاب منصوبہ تیار کیا ہے۔

ان کے مطابق یہ گاڑی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ہے اور اس میں وہ تمام جدید ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے جو کسی بھی گاڑی کو بغیر ڈرائیور کے چلنے کے قابل بناتی ہے۔

پروفیسر خرم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کوئی عام گاڑی نہیں یہ ایک ’ذہین مشین‘ ہے۔ ایک الیکٹرک وہیکل جسے نہ تھکن محسوس ہوتی ہے، نہ گھبراہٹ، اور نہ ہی توجہ بٹتی ہے۔

’اس گاڑی کا ’دماغ‘ ایک طاقت ور کمپیوٹر سسٹم ہے جو اوپر نصب سینسرز، کیمروں اور ہائی پریسیژن GPS سے مسلسل ڈیٹا حاصل کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا لمحوں میں پروسیس ہو کر فیصلوں میں بدل جاتا ہے کہاں مڑنا ہے، کب رکنا ہے، اور کتنی رفتار مناسب ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ’یہ دراصل ایک الیکٹرک گاڑی ہے جسے پہلے درآمد کیا گیا، پھر اسے مقامی سطح پر جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل (موڈیفائی) کیا گیا۔

’اس میں مختلف جدید سینسرز نصب کیے گئے، ایک طاقتور AI کمپیوٹنگ سسٹم شامل کیا گیا، اور آٹو میکینیکل نظام کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ گاڑی مکمل طور پر خو دکار طریقے سے چل سکے۔‘

اس گاڑی کو فی الحال این ای ڈی یونیورسٹی کے کیمپس میں ٹیسٹ کیا جا رہا ہے، جہاں سڑکوں کو خاص طور پر اس سسٹم کی ٹریننگ اور آزمائش کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

تکنیکی خصوصیات کے حوالے سے پروفیسر خرم نے بتایا کہ ’یہ گاڑی ایک چارج میں تقریباً 200 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہے۔ اس کے کمپیوٹنگ اور دیگر سسٹمز ایک علیحدہ بیٹری ماڈیول سے چلتے ہیں، جو 8 سے 9 گھنٹے تک بیک اپ فراہم کرتا ہے۔

’گاڑی میں سونار سینسرز، ہائی پریسیژن GPS سسٹم اور ہائی ڈیفینیشن کیمرے نصب ہیں، جو مل کر گاڑی کو تھری ڈی (3D) ماحول کا مکمل ادراک  فراہم کرتے ہیں۔ اے آئی سسٹم اسی ڈیٹا کی بنیاد پر راستہ متعین کرتا ہے اور محفوظ انداز میں گاڑی کو منزل تک لے جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال اس گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار 20 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رکھی گئی ہے، تاہم یہ سڑک کی صورتحال کے مطابق اپنی رفتار خود ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بقول پروفیسر خرم: ’اس منصوبے کے دو بڑے مقاصد ہیں۔ پہلا، پاکستان میں جدید اور مستقبل کی ٹیکنالوجی، خاص طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینا۔ دوسرا، ایسی عالمی معیار کی ٹیکنالوجی تیار کرنا جو بین الاقوامی سطح پر برآمد کی جا سکے اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔‘

یہ منصوبہ صرف ایک ٹیکنالوجی کا تجربہ نہیں بلکہ ایک وژن ہے۔ نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے تحت اس پراجیکٹ کا مقصد پاکستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجی میں آگے لے جانا اور ایسی جدت پیدا کرنا ہے جو عالمی معیار پر پورا اترے۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *