بنانا چاہتے ہیں، زمینی کارروائی پر ایران کا انتباہ
تہران۔ 29 مارچ (ایجنسیز) ایران نے کہاہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو ان کے فوجی شارک مچھلیوں کی خوراک بنیں گے۔خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایران پر زمینی حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اقدام امریکی افواج کیلئے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا اور انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی زمینی کارروائیوں اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے سے متعلق بار بار دی جانے والی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان منصوبوں کو حقیقت سے عاری قرار دیا۔لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے مخصوس انداز میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ زمینی حملے یا قبضے کی کوشش کی صورت میں ’امریکی فوجی خلیجِ فارس کی شارک مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے۔ترجمان نے کہا کہ امریکی قیادت نے فوج کی کمان ایسے فرد کے سپرد کر دی ہے جس کے فیصلوں نے امریکی افواج کو بدترین دلدل میں دھکیل دیا ہے اور خطے میں موجود امریکی فوجیوں کو روزانہ کی بنیاد پر سنگین خطرات کا سامنا ہے۔امریکی قیادت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایران کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور ماضی میں غیر ملکی حملہ آوروں کے ساتھ ہونے والے تجربات سے سبق سیکھیں اور خبردار کیا کہ غلط فیصلے امریکی افواج کے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایران نے امریکہ کو سخت انتباہ دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران میں زمین پر فوجی اتارنے کی تیاری کر رہا ہے تو ایران کہتا ہے ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ایران کے سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ شیئر کی اور تہران ٹائمز کے فرنٹ پیج کا اسکرین شاٹ بھی دیا جس کا عنوان تھا Hell to Welcome یعنی ’ دوزخ استقبال‘ اخبار میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر امریکی فوجی ایران کی زمین پر قدم رکھیں گے تو وہ تابوت میں ہی واپس جائیں گے۔
یعنی زندہ نہیں بچیں گے۔
ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کیفوج مکمل تیار ہے اور کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔امریکی افسران کے حوالے سے ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ پنٹاگن کئی ہفتوں تک چلنے والے گراؤنڈ آپریشن کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس میں اسپیشل آپریشن فورس اور روایتی پیادہ فوج شامل ہو سکتی ہے۔حالانکہ حتمی فیصلہ اب بھی امریکی صدر ٹرمپ کو لینا ہے۔ اسی دوران امریکی سنٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کا جنگی جہاز ’یو ایس ایس ٹرپولی‘ تقریباً 2500 مرین فوجیوں کو لے کر مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔اس جہاز پر ’31ویں مرین ایکسپڈیشنری یونٹ‘ کے فوجی تعینات ہیں۔ یہ یونٹ پہلے جاپان میں تعینات تھی اور تائیوان کے آس پاس میں مشقیں کر رہی تھی، لیکن تقریباً 2 ہفتے قبل اسے مشرق وسطیٰ بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔’یو ایس ایس ٹرپولی‘ اپنے ساتھ ٹرانسپورٹ طیارے، جدید ترین اسٹرائیک فائٹر جیٹس (ایف-35) اور ایمفی بیئس حملے کے آلات بھی موجود ہیں، جو سمندر سے زمین پر براہ راست حملے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
