Thu. Apr 2nd, 2026

لائیو: ٹرمپ کا جنگ بندی سے متعلق بیان ’جھوٹا اور بے بنیاد‘، ایران

394048 902041479


ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 32 واں دن ہے۔

 امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔


رات 11 بج کر 50 منٹ

تہران کو عام امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں: ایرانی صدر کا کھلا خط

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا واشنگٹن واقعی ’سب سے پہلے امریکہ‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے یا محض ’اسرائیل کا نمائندہ‘ بن کر ’آخری امریکی فوجی تک‘ جنگ لڑنے کو تیار ہے۔

ایرانی نیوز ویب سائٹ پریس ٹی وی کے مطابق بدھ کے روز جاری اس پیغام مں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران کو عام امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں۔

اس کے بجائے انہوں نے امریکی عوام پر زور دیا کہ وہ ’گھڑی ہوئی کہانیوں‘ سے آگے دیکھیں اور ان لوگوں سے بات کریں جو ایران جا چکے ہیں۔ ان ایرانی ماہرین کو دیکھیں جو دنیا کی بہترین جامعات اور ٹیکنالوجی اداروں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ایرانی صدر نے سوال اٹھایا: ’کیا یہ حقیقتیں ان باتوں سے مطابقت رکھتی ہیں جو آپ کو ایران کے بارے میں بتائی جاتی ہیں؟‘

ساتھ ہی انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو خطرہ ظاہر کرنا دراصل فوجی صنعتی نظام اور اسرائیلی سیاسی مفادات کی پیداوار ہے۔

بقول مسعود پزشکیان: ’ایران کو خطرہ ظاہر کرنا نہ تو تاریخی حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی موجودہ حقائق سے۔ یہ تصور طاقتور حلقوں کے سیاسی و معاشی مفادات کا نتیجہ ہے۔ ایک دشمن تراشنے کی ضرورت تاکہ دباؤ کو جواز دیا جا سکے، عسکری برتری برقرار رکھی جا سکے، اسلحے کی صنعت کو زندہ رکھا جا سکے اور اہم منڈیوں پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ ایسے ماحول میں اگر خطرہ موجود نہ ہو تو اسے پیدا کیا جاتا ہے۔‘


رات 9 بج کر 53 منٹ

ٹرمپ کا جنگ بندی سے متعلق بیان ’جھوٹا اور بے بنیاد‘: ایران

ایران نے بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو ’جھوٹا اور بے بنیاد‘ قرار دے دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی عوام سے ان کے خطاب سے قبل ’ایران کی نئی رجیم کے صدر‘ جنگ بندی چاہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی شام امریکی عوام سے خطاب کریں گے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا: ’ایران کے نئے نظام کے صدر، جو اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں کہیں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں، نے ابھی ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے لکھا: ’ہم اس پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلی، آزاد اور صاف ہوگی۔ اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں یا جیسا کہ وہ کہتے ہیں، پتھر کے دور میں واپس بھیج رہے ہیں۔‘

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ’ایران کی نئی رجیم کے صدر‘ کا ذکر کیا۔ ایران میں اس وقت مسعود پزشکیان ہی صدارت کے عہدے پر موجود ہیں۔

تاہم ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے اس دعوے کو ’جھوٹا اور بے بنیاد‘ قرار دے دیا ہے۔

اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کی رات الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اشارہ دیا تھا کہ تہران لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا تھا: ’آپ ایران کے عوام سے دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کی زبان میں بات نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے دفاع کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کرتے۔‘


رات 8 بج کر 30 منٹ

ہم اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گے جس کے ہم فریق نہیں ہیں: بحرین

بحرین نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے تناظر میں بدھ کو کہا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہو گا، جس کا وہ فریق نہیں۔

 امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کو تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں میں اسرائیل کے علاوہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

اسی تناظر میں بحرین کی وزارت داخلہ نے بدھ کو ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا: ’ہم نے اپنے اس مؤقف کو برقرار رکھا کہ ہم اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گے جس کے ہم فریق نہیں ہیں۔‘

ایک اور پوسٹ میں بحرینی وزارت داخلہ نے لکھا کہ عرب وزرائے داخلہ کونسل نے ایرانی جارحیت اور شہری مقامات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے، جو شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

وزارت داخلہ کا مزید کہنا تھا: ’کونسل نے جاری ایرانی جارحیت کا مقابلہ کرنے میں عرب ممالک کی مکمل حمایت کی توثیق کی ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی بھرپور تائید کی ہے۔‘


شام 6 بج کر 22 منٹ

’ایران کی نئی رجیم کے صدر‘ زیادہ ذہین ہیں، جنگ بندی چاہتے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو دعویٰ کیا ہے کہ امریکی عوام سے ان کے خطاب سے قبل ’ایران کی نئی رجیم کے صدر‘ جنگ بندی چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے یہ دعویٰ ٹروتھ سوشل پر کیا، تاہم ایران کی جانب سے ٹرمپ کی اس پوسٹ پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی شام امریکی عوام سے خطاب کریں گے۔

امریکی صدر نے لکھا: ’ایران کے نئے نظام کے صدر، جو اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں کہیں کم شدت پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں، نے ابھی ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے لکھا: ’ہم اس پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلی، آزاد اور صاف ہوگی۔ اس وقت تک ہم ایران کو مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں یا جیسا کہ وہ کہتے ہیں، پتھر کے دور میں واپس بھیج رہے ہیں۔‘

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ’ایران کی نئی رجیم کے صدر‘ کا ذکر کیا۔ ایران میں اس وقت مسعود پزشکیان ہی صدارت کے عہدے پر موجود ہیں۔

ایران کی جانب سے ٹرمپ کی پوسٹ پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کی رات الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اشارہ دیا تھا کہ تہران لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا تھا: ’آپ ایران کے عوام سے دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کی زبان میں بات نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے دفاع کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کرتے۔‘


شام 5 بج کر 30 منٹ

عرب امارات کی ایرانی شہریوں پر نئی پابندیاں

اے ایف پی کے مطابق دبئی کی فضائی کمپنی نے کہا ہے کہ چند استثنیٰ کے ساتھ ایرانی شہریوں کے متحدہ عرب امارات میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ ٹریول ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایرانیوں کے ویزے بڑی تعداد میں مسترد ہو رہے ہیں۔

ایمریٹس اور فلائی دبئی نے اپنی ویب سائٹس پر کہا کہ اماراتی شہریوں کے رشتہ داروں، خاندانوں اور مخصوص پیشوں سے وابستہ چند رہائشیوں کے علاوہ ایرانی شہریوں کے متحدہ عرب امارات میں داخل ہونے پر پابندی ہے۔

ایمریٹس اور فلائی دبئی نے اپنی ویب سائٹس پر کہا، ’ایران کے شہریوں کو داخل ہونے اور ٹرانزٹ کی اجازت نہیں ہے۔‘


دن 3 بج کر 52 منٹ

آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے رواں ہفتے 35 ملکوں کے اجلاس کی میزبانی کریں گے: برطانیہ

اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئرسٹارمر کا کہنا ہے کہ ’اس اجلاس کے بعد، ہم اپنے عسکری منصوبہ سازوں کو بھی بلائیں گے تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو کس طرح مجتمع کر سکتے ہیں؟‘

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ برطانیہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث مفلوج ہونے والی سٹریٹجک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقوں پر غور کرنے کے لیے اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

کیئر سٹارمر نے ڈاؤننگ سٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر ان مذاکرات کی میزبانی کریں گی۔ تاہم انہوں نے بات چیت کے دن کی وضاحت نہیں کی۔

کیئرسٹارمر کا کہنا تھا ک یہ اجلاس ’ان تمام قابل عمل سفارتی اور سیاسی اقدامات کا جائزہ لے گا جو ہم جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرنے، پھنسے ہوئے بحری جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت کی ضمانت دینے اور اہم اشیا کی نقل و حرکت دوبارہ شروع کرنے کے لیے اٹھائے جا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس اجلاس کے بعد، ہم اپنے عسکری منصوبہ سازوں کو بھی بلائیں گے تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو کس طرح مجتمع کر سکتے ہیں اور لڑائی رکنے کے بعد آبنائے کو کس طرح قابل رسائی اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم اس تنازعے کا حصہ نہیں بنیں گے، یہ ہماری قومی مفاد میں نہیں۔‘

کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’برطانوی میں اخراجات میں معاونت کا سب سے مؤثر طریقہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی پر زور دینا اور آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے، جو توانائی کا اہم ترین راستہ ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بگڑنے کی وجہ سے وہ یورپ سے قریبی تعلقات بنا رہے ہیں؟ اس پر سٹارمر نے کہا کہ وہ امریکہ اور یورپ میں کسی کا انتخاب نہیں کر رہے۔

’میرے خیال میں یورپ اور امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات ہمارے مفاد میں ہے۔‘


دن 2 بجے

آنے والے مہینے آسان نہیں: آسٹریلوی وزیر اعظم

آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے بدھ کو عوام سے خطاب میں خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث آنے والے مہینے ’شاید زیادہ آسان نہ ہوں‘۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اینتھونی البانیز عوام سے خطاب میں کہا کہ ’آنے والے مہینے آسان نہیں ہوں گے۔ میں اس بارے میں واضح رہنا چاہتا ہوں۔

’کوئی بھی حکومت اس جنگ کے باعث ہونے والے دباؤ کو ختم کرنے کا وعدہ نہیں کر سکتی۔‘

پیٹرول کی قیمتوں میں تاریخی اضافے پر آسٹریلوی وزیر اعظم نے عوام سے درخواست کی کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں، ایندھن کو دیہی علاقوں کے لوگوں اور ضروری خدمات کے لیے بچا کر رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا اس جنگ میں ایکٹیو شریک نہیں ہے، لیکن تمام آسٹریلین اس کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘


دن 12 بج کر 15 منٹ

حوثیوں کا ایران اور حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر حملہ

یمن کے حوثیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل حملہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حوثیوں کی جانب سے اس جنگ میں شامل ہونے کے بعد تیسرا حملہ ہے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’ہم نے تیسری فوجی کارروائی انجام دی… جس میں دشمن اسرائیلی کے حساس اہداف کو بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ سے نشانہ بنایا گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ کارروائی ایران اور لبنان میں ہمارے مجاہد بھائیوں کے ساتھ مشترکہ طور پر انجام دی گئی۔‘


دن 12 بج کر 10 منٹ

ایرانی حملے میں 14 اسرائیلی زخمی

اسرائیل میں ایمرجنسی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے میں 14 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں متعدد مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 20 گھنٹوں میں پہلی مرتبہ ایران سے میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں پورے اسرائیل میں سائرن بجنے لگے۔

فوج کے ملٹری فرنٹ کمانڈ کے مطابق اس حملے کے نصف گھنٹے بعد ہی ایک اور میزائل وارننگ جاری کی گئی۔

اسرائیلی ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے مطابق ’14 افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ زخمیوں میں ایک 11 سالہ بچی بھی شامل ہے۔‘


دن 11 بج کر 35 منٹ

یو اے ای میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے بنگلہ دیشی شہری کی موت

متحدہ عرب امارات میں وام نیوز کے مطابق بدھ کو ایک ڈرون کا ملبہ گرنے کے نتیجے میں بنگلہ دیشی شہری کی موت ہو گئی ہے۔

وام نیوز کے مطابق یہ واقعہ فجیرہ میں پیش آیا جہاں ایک ڈرون کو مار گرایا گیا جس کا ملبہ گرنے کے نتیجے میں ایک بنگلہ دیشی شہری جان سے گیا۔


صبح 10 بج کر 55 منٹ

اسرائیل کے تہران پر ’بڑے پیمانے‘ پر حملے

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کی صبح تہران پر ’بڑے پیمانے پر‘ فضائی حملے کیے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی متعدد مقامات پر دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ اس نے تہران میں ’بڑے پیمانے پر حملوں میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔‘


صبح 9 بج کر 10 منٹ

کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ

جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے بدھ کو کہا ہے کہ ’ایران اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں‘ نے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

کویت کی سرکاری نیوز ایجنسی کونا کے مطابق ترجمان جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن عبداللہ ال راجھی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں میں کویت ایوی ایشن فیول سپلایی کمپنی کے فیول ٹینکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی، اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق نقصان صرف مادی نوعیت کا ہے جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔


صبح 8 بج کر 10 منٹ

امریکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دو سے تین ہفتوں کے اندر ختم کر سکتا ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں دو سے تین ہفتوں کے اندر ختم کر سکتا ہے، اور اس کے لیے تہران کا کسی معاہدے پر دستخط کرنا ضروری نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بہت جلد نکل جائیں گے،‘ اور مزید کہا کہ انخلا ’دو ہفتوں میں، شاید دو ہفتے، شاید تین‘ میں ہو سکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے ساتھ کامیاب سفارت کاری اس آپریشن کے خاتمے کے لیے لازمی شرط ہے؟ جس جواب ٹرمپ نے نفی میں دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ایران کو معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں، نہیں۔ انہیں میرے ساتھ معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ ٹرمپ بدھ کی شب 9 بجے (ای ڈی ٹی) قوم سے خطاب کریں گے تاکہ ایران کے حوالے سے ایک اہم اپ ڈیٹ فراہم کی جا سکے۔

اس سے قبل واشنگٹن نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران 15 نکاتی امریکی جنگ بندی فریم ورک قبول نہیں کرتا تو فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔

اس فریم ورک کے اہم مطالبات میں ایران کا جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد، یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنا، اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا شامل تھا۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *