چار خلاباز بدھ کو خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے بہت بڑے راکٹ پر سوار ہو کر چاند کے گرد طویل عرصے سے متوقع سفر پر روانہ ہو گئے۔ یہ 50 سال سے زائد عرصے میں چاند کے گرد انسانی عملے پر مشتمل پہلی پرواز ہے۔
ایک زوردار گرج کے ساتھ جس کی گونج لانچ پیڈ سے بہت دور تک سنائی دی۔ یہ دیوہیکل نارنجی اور سفید رنگ کا راکٹ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً چھ بج کر 35 منٹ پر (22:35 جی ایم ٹی) فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے تین امریکی اور ایک کینیڈین خلا باز کو لے کر روانہ ہوا۔
جیسے ہی خلائی جہاز شعلے چھوڑتا ہوا روشن آسمان کی جانب بلند ہوا، ناسا کی ٹیمیں اور تماشائی یکساں طور پر خوشی سے نہال ہو گئے۔
اس ٹیم میں، جنہوں نے روانگی کے وقت نیلی دھاریوں والے چمکدار نارنجی سوٹ پہن رکھے تھے، امریکی خلاباز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ کے ساتھ ساتھ کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔
اس موقعے پر مشن کمانڈر وائزمین نے کہا کہ ’چاند طلوع ہونے کا منظر بہت خوبصورت ہے۔ ہم سیدھے اسی کی طرف جا رہے ہیں۔’
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب کے آغاز میں اس کامیاب لانچ کو ’بہت بڑی بات‘ قرار دیتے ہوئے ’اپنے بہادر خلابازوں‘ کی تعریف کی۔
خلا باز اس وقت زمین کے گرد مدار میں ہیں، جہاں وہ مختلف جانچ کریں گے تاکہ اس خلائی جہاز کے قابل اعتماد ہونے اور سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے جو اس سے پہلے کبھی انسانوں کو نہیں لے گیا۔ وہ ڈاکنگ سمولیشنز کے دوران اسے خود چلانے کی صلاحیتوں کا بھی تجربہ کریں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر، امت کھشتری نے لانچ کے بعد ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ شروع میں ہی ٹیموں نے حل کرنے کے لیے کئی چھوٹی موٹی خرابیوں کی نشاندہی کی، جن میں ’ٹوائلٹ کو چالو کرنے پر اس کے کنٹرولر کا مسئلہ‘ بھی شامل تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے ابھی آغاز ہی کیا ہے۔‘
ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے خلائی جہاز کے ساتھ رابطے میں ایک عارضی مسئلے کا بھی ذکر کیا جسے بعد میں حل کر لیا گیا۔ عملے نے اس کی وجہ جاننے کے لیے کام کیا۔
لیکن آئزک مین نے کہا کہ خلاباز’محفوظ ہیں، وہ خیریت سے ہیں، اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔‘
انہوں نے بدھ کی لانچ کی تاریخی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ناسا انسانوں کو چاند پر بھیجنے کے کام پر واپس آ گیا ہے۔‘
