
(ویب ڈسیک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراغچی نے واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کی تردید کی دی ہے کہ ایرانی قیادت نے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آج عباس عراغچی نے کہا کہ امریکہ کا میڈیا جنگ بندی کی خبروں کو مس رپورٹ کر رہا ہے۔ ہم جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ اس کے ساتھ عباس عراغچی نے بالواسطہ یہ تصدیق کی کہ ایران بعض مطالبات پر سخت پوزیشن لئے ہوئے ہے۔ ایران جنگ-
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراغچی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ہم نے مذاکرات کیلئے اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا۔
گزشتہ روز واشنگٹن پوسٹ نے یہ رپورٹ نشر کی تھی کہ ایران نے اسلام آباد میں امریکی حکام سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ثالثوں کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کے لیے تیار نہیں اور یہ کہ امریکہ کے مطالبات نا مناسب ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں تین خاس ایران یشرائط/مطالبات کا بھی ذکر کیا تھا جن میں جنگ کے نقصانات کا ازالہ، آئندہ حملہ نہ کرنےکی ضمانت اور عرب ملکوں میں امریکہ کے فوجی اڈے ختم کرنا شامل تھا۔
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کے انکار کے باوجود ترکیے اور مصر پیش رفت کی کوشش کر رہے ہیں اور ایرانی قیادت کو دوحہ یا استنبول میں امریکی نمائندوں سے مذاکرات کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے یہ بھی بتایا کہ تعطل ختم کرنے کے لیے نئی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسلام آباد میں امریکہ کےساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کردیا؟
آج ایران کے وزیر خارجہ عباس عراغچی نے ایرانی عوام کی پاکستان سے والہانہ محبت کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم نے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا۔
عراغچی نے لکھا کہ ہم جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، امریکی میڈیا جنگ بندی کی خبروں کو غلط طریقے سے پیش کر رہا ہے، ایران ان شرائط پر زور دیتا ہے کہ جنگ کا جامع اور دائمی خاتمہ ہونا چاہیے۔
Iran’s position is being misrepresented by U.S. media.
We are deeply grateful to Pakistan for its efforts and have never refused to go to Islamabad. What we care about are the terms of a conclusive and lasting END to the illegal war that is imposed on us.
پاکستان زنده باد pic.twitter.com/AUjBQxOFyA
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 4, 2026
