Fri. Apr 10th, 2026

آج اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کیسے ہوں گے؟ کون کیا کرےگا؟ایجنڈاکیاہے؟

news 1775764578 3214


(وسیم عظمت) آج صبح کسی وقت شہرِ بےمثال کے  ذمہ دار کارپرداز دنیا کو سنگین معاشی بحران کی طرف دھکیلنے اور کئی ملکوں کو سکیورٹی کے پیچیدہ مسائل سے دوچار کر دینے والی امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ ختم کروانے کے لئے پیچیدہ مصالحت کاری کا آغاز کر رہے ہیں۔ اگر کوئی انہونی نہ ہوئی تو یہ مذاکرات کئی روز تک جاری رہیں گے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جن پیچیدہ مسائل کو دو دہائیوں سے  درجنوں مرتبہ کوششیں کر چکے مذاکرات کاروں کی کئی ٹیمیوں حل نہیں کر پائیں وہ اب اسلام آباد کی ہمہ وقت بے سبب معطر رہنےوالی فضا میں یقیناً حل ہو جائیں گے۔ 

ایران اور امریکہ کے مذاکرات کار ایک ہی ہوٹل سرینا میں الگ الگ ایریاز میں موجود ہوں گے۔  مذاکرات ابتدا میں ایسے ہوں گے کہ پاکستان کے  ذمہ دار ڈپلومیٹ اطراف سے پوزیشن پیپر وصول کر کے دوسرے فریق کو پہنچائیں گے اور فریقین مناسب سوچ بچار کے بعد جو بھی جواب دیں گے وہ پاکستانی ڈپلومیٹس کے ذریعہ دوسری طرف پہنچتے رہیں گے۔

ابتدا  پرائم منسٹر شہباز خود کریں گے

امکان ہے کہ بات چیت کے ابتدائی دور میں وزیر اعظم شہباز شریف خود امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کے ساتھ باری باری ملاقاتیں کریں گے اور اولین پیام بری / میڈئیشن خود شہباز شریف کریں گے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس کام میں وزیر اعظم کی معاونت کریں گے۔

ابتدائی ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اپنے  بنیادی فرائض سنبھالنے میں مصروف ہو جائیں گے تاہم وہ ہمہ وقت مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ رہیں گے اور  اسحاق ڈار کی سرگردگی میں سرگرم پاکستانی مصالحت کاروں کے ساتھ رابطہ میں رہیں گے۔

مذاکرات کن نکات پر ہوں گے؟

آج ہفتہ 10 اپریل کے کیلنڈر پر آغاز کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد تک کسی کو نہیں معلوم کہ آج صبح امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار جب  نازک عارضی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا آغاز کریں گے تو وہ دراصل کن امور پر بات کریں گے۔

ڈیڑھ ماہ کی شدید جنگ نے ایران، امریکہ، سعودی عرب، دبئی، قطر، بحرین اور اسرائیل کو براہ راست لپیٹ میں لیا اور دنیا کے اربوں انسانوں پر اس کا بالواسطہ اثر ہوا۔ ابتدا سے اب تک امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے مقاصد واضح نہیں تھے نہ ہی ایران کے کئی عرب ملکوں پر حملوں کے مقاصد واضح ہوئے، اب دو بنیادی فریق مذاکرات کی میز پر آئے ہیں تو ان کے اور کچھ حکومتوں کے  ذمہ دار کارپردازوں کے سوا کسی کو نہیں پتہ کہ ٹیبل پر بیٹھنے سے پہلے کیا ایجنڈا طے ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات، صدر عون اور نیتن یاہو دونوں کی تصدیق

ایران کے میڈیا کے ذریعہ دنیا کے سامنے جو  “ایران کے دس نکات” سامنے آئے ان کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وائٹ ہاؤس کے ترجمان اور مذاکرات کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس  اِر ریلیونٹ  اور حقائق سے دور مواد قرار دے چکے ہیں۔ مذاکرات میں کیا چیزیں طے کرنا مقصود ہے اور اصل موضوع کیا ہے، اس پر صرف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

امریکہ کے نائب صدر کی 15 سال بعد اسلام آباد آمد

پاکستان  آنے والے  امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار  جو  بائیڈن تھے۔ جو  بائیڈن   2011 میں اسلام آباد  آئے تھے۔ پریذیڈنٹ جو- اس وقت پریذیڈنٹ اوباما کے نائب صدر تھے۔  بعد میں جو  بائیڈن ایک صدارتی انتخاب کے وقفے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار بنے  جب ٹرمپ دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے لئے الیکشن لڑا تو بائیڈن الیکشن جیت کر صدر بن گئے تھے۔

اب 15 سال بعد نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ہیں۔  وینس کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ آئندہ صدارتی الیکشن مین ری پبلکن پارٹی کی طرف سے صدر کے امیدوار ہوں گے۔

ایران کے مذاکرات کار

ایران کی مذاکرات کرنے کے لئے جو لوگ اسلام آباد آ رہے ہیں، ان میں، کہا جا رہا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کی معاونت کرنے کے لئے  محمد باقر قالیباف آ رہے ہیں۔ قالیباف پہلے پاسدارانِ انقلاب سے براہ راست وابستہ رہ چکے ہیں اور آج کل پارلیمنٹ کے سپیکر ہیں۔ عباس عراقچی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے وزیر خارجہ بنوایا تھا۔  ایرانی مذاکرات کار وفد کی اصل کمپوزیشن آج صبح ہی سامنے آ سکے گی۔ 

انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندوں کی اسلام آباد آمد

اسلام آباد عام دنوں میں بھی انٹرنیشنل میڈیا آؤٹ لیٹس کا فیورٹ سٹیشن ہے لیکن آج صبح سے آغاز ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کی کوریج کے لئے تقریباً تمام لیڈنگ میڈیا آؤٹ لیٹس اپنے سیزنڈ نمائندوں کی اسلام آباد میں موجودگی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ہفتہ کے روز تک سامنے آ چکی انفارمیشن یہ تھی کہ  بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس سے تین درجن سے زائد ویزا درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، جن میں کم از کم 20 صحافیوں کو  اسلام آباد  آنے کی حکومتِ پاکستان کی طرف سے کلئیرنس ملی ہے۔

امریکی قیادت کی سکیورٹی ٹیم، گاڑیوں کی آمد

 حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ 30 رکنی امریکی سیکیورٹی ٹیم پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔  امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، قومی سلامتی کے مشئیر سٹیوو وِٹکوف اور ان کے معاون جیراڈ کوشنر امریکہ کی ٹرمپ حکومت کی تین ٹاپ موسٹ  شخصیات ہیں۔ ان کی مناسب حفاظت کے لئے پاکستان نے شایان شان انتظام  ان کی آمد سے بہت پہلے مکمل کر لیا تھا۔ ریڈ زون کو مکمل کورڈن آف کیا گیا اور سرینا ہوٹل کو مکمل خالی کروا کر ہر طرح سے  سکین کر لیا گیا۔ امریکی شخصیات کی آمد سے پہلے امریکہ سے ایک خصوصی فوجی طیارہ چکلالہ ائیر بیس آیا جس میں کئی بلٹ پروف گاڑیاں، سکیورٹی کے جدید نظام سے لیس گاڑیاں اور جدید ترین ایمبولینس گاڑی تھی۔ 

ایرانی مذاکرات کاروں کی اسلام آباد آمد کے لئے بھی ایسی ہی تیاریاں اور انتظامات کئے گئے ہیں۔

news 1775764583 8277





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *