تہران ۔ 9 اپریل (ایجنسیز) اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل تہران نے یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ایرانی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد اسلامی نے جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ دشمن ایران کے افزودگی پروگرام کو محدود کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔دوسری جانب ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے دو ہفتوں کے لیے ہونے والے عارضی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر خبردار کیا ہے، جس کا اعلان پاکستان نے بدھ کی علی الصبح کیا تھا۔محمد رضا عارف نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ کے مطابق انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کا فوری، فیصلہ کن اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔اسی دوران ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ دیا کہ ان کا ملک اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کی بندش اور جارحیت کے خاتمے کے بعد عالمی قوانین اور ضوابط کے مطابق بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دے گا۔ خطیب زادہ نے وضاحت کی کہ تہران نے آبنائے ہرمز کو اس وقت بند کیا جب امریکہ کے اتحادی اسرائیل نے جنگ بندی کی دانستہ اور سنگین خلاف ورزی کی۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی وفد آج شام اسلام آباد پہنچ رہا ہے جہاں باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہفتے کے روز ہوگا۔ اس وفد میں محمد باقر قالیباف کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہوں گے۔دوسری جانب امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ایران پر پہلے سے بڑے اور شدید حملے کیے جائیں گے۔I/H
انہوں نے واضح کیا کہ تہران کا ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا یا آبنائے ہرمز کی بندش کو جاری رکھنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
