(ویب ڈیسک) مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں آرتھوڈوکس مسیحی آج اپنا سب سے بڑا دن ایسٹر منا رہے ہیں۔ یروشلم میں آرتھوڈوکس مسیحیوں کے ایسٹر سے ایک روز پہلے حضرت یسوع المسیح کے مقبرہ میں ہوئی فائر روشن ہو گئی۔ یہ قدیم شہر یروشلم میں سب سے زیادہ قابلَ ذکر مذہبی تہواروں میں سے ایک ہے۔جولین کیلینڈر کے مطابق عبادات کرنے والے آرتھوڈوکس کرسچین فرقہ کا ایسٹر آج اتوار 12 اپریل کو ہو رہا ہے۔
مقدس آگ کا ظاہر ہونا آرتھوڈوکس مسیھیوں کے لئے ایک خاص لمحہ ہوتا ہے جس میں شرکت کے لئے وہ دور دور سے یروشلم کے قدیم حصہ میں خداوند یسوع المسیح کے مقبرہ میں جمع ہوتے ہیں۔
یروشلم کے پرانے شہر میں آرتھوڈوکس کرسچین ایسٹر منانے سے ایک دن پہلے، عبادت گزاروں نے ایک ہزار سال سے منعقد ہونے والی مذہبی تقریب میں مقدس شعلے کا انتظار کرنے کے لیے یسوع مسیح کی قبر کو گھیر کر وہاں موجود رہتے ہیں اور اس دوران روحانی گیت گاتے رہتے ہیں۔

قیامت المسیح کا تصور
مسیحی تعلیم کے مطابق ایسٹر وہ دن ہے جب علی الصبح یسوع المسیح کی عارضی قبر کی حیثیت سے استعمال کی گئی غار میں جانے والوں پر انکشاف ہوا تھا کہ وہ دوبارہ زندہ ہو چکے ہیں۔ عقیدہ کے مطابق یسوع المسیح کو جمعہ کے روز صلیب پر انتقال کر جانے کے بعد جمعہ کی شام کلوری کی پہاڑی کے قریب واقع ایک غار کے اندر رکھ دیا گیاتھا تاکہ ہفتہ کا دن گزرنے کے بعد اتوار کو ان کی یہودی طریقہ کار کے مطابق رسمی تدفین کی جا سکے۔ اتوار کے روز تدفین کی نوبت نہیں آئی کیونکہ ان کی میت وہاں موجود نہیں تھی جہاں اسے جمعہ کی شام رکھا گیا تھا۔
اب اس جگہ پر ایک پرشکوہ چرچ کی عمارت موجود ہے جسے تمام کرسچین فرقے اپنے اپنے طریقہ سے اپنی عبادات اور رسومات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
آرتھوڈوکس مسیحیوں کا ایسٹر (عیدِ قیامت المسیح) آج اتوار 12 اپریل کو منایا جا رہا ہے۔ مغربی مسیحیوں (کیتھولک اور پروٹسٹنٹ) کے برعکس، آرتھوڈوکس کلیسیا ایسٹر کی تاریخ کے تعین کے لیے “جولین کیلنڈر” استعمال کرتی ہے، جس کی وجہ سے ان کا ایسٹر عموماً ایک ہفتے یا بعض اوقات اس سے زیادہ دیر بعد آتا ہے۔
ہولی فائر (مقدس آگ) کا تصور
ہولی فائر یا “مقدس آگ” آرتھوڈوکس مسیحیوں کے لیے ایک سالانہ کرشمہ اور انتہائی مقدس روایت ہے جو ایسٹر سے ایک دن پہلے، یعنی ہولی سیٹرڈے (مقدس ہفتہ) کو بیت المقدس (یروشلم) میں “چرچ آف دی ہولی سیپلکر” (مقبرہِ مسیح کے چرچ) میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔
اس روایت کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
کرشماتی ظہور
عقیدے کے مطابق، یہ آگ کسی انسانی ذریعے (ماچس یا لائٹر) سے نہیں جلائی جاتی بلکہ حضرت عیسیٰؑ کے مقبرے کے اندر سے معجزانہ طور پر نمودار ہوتی ہے۔
تقریب کا طریقہ
یونانی آرتھوڈوکس پیٹریاک (پیشوا) مقبرے کے اندر تنہا داخل ہوتے ہیں۔ ان کی تلاشی لی جاتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ ان کے پاس آگ جلانے کا کوئی سامان نہیں ہے۔ دعا کے بعد مقبرے کے اندر سے روشنی پھوٹتی ہے اور پیٹریاک شمعیں روشن کر کے باہر آتے ہیں۔

علامتی اہمیت
یہ آگ حضرت یسوع کے دوبارہ جی اٹھنے (قیامتِ مسیح/Resurrection) اور دنیا میں “نورِ مسیح” کی واپسی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
عالمی منتقلی
اس مقدس آگ کو خصوصی ائیر فلائٹس کے ذریعے یونان، روس، یوکرین اور دیگر آرتھوڈوکس ممالک میں پہنچایا جاتا ہے تاکہ وہاں کے چرچوں میں ایسٹر کی عبادات کے لیے استعمال کی جا سکے۔

