ٹرمپ ایرانی تجاویز سے غیر مطمئن، تجاویز کی مکمل تفصیلات ہنوز مخفی
واشنگٹن:29 اپریل ( ایجنسیز ) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ممکنہ مذاکرات سے متعلق نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے ایک نئے تجویز پر غور کیا ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش شامل ہے، بشرطیکہ جنگ کا خاتمہ کیا جائے، جبکہ ایران کے نیوکلیئرپروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم دونوں ممالک کی جانب سے اس تجویز کی مکمل تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور جلد از جلد آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ اس پیشکش سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کی پیشکش کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدہ میں یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایران نیوکلیئرہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ایران اس سے قبل بارہا نیوکلیئرہتھیار بنانے کے عزائم کی تردید کرتا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق ایران نے نظر ثانی شدہ تجاویز پر سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے چند دن مانگ لیے اور امریکی اخبار کے مطابق ایران نے ثالثوں کو بتایا کہ سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے چند دن درکار ہیں۔ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی طویل ناکہ بندی کی تیاری کی ہدایت دی ہے، تاکہ تہران کو یورینیم افزودگی روکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ملک اب بھی جنگی صورتحال میں ہے اور دشمن کی کسی بھی نئی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا عمل پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔(W/S)
