Thu. May 7th, 2026

امریکا ایران معاہدے کے قریب ناکامی پر دوبارہ حملوں کا امکان ہے: ٹرمپ

news 1778096202 3556



news 1778096202 3556

(24نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جو ان کے آئندہ چین کے دورے سے قبل بھی طے پا سکتا ہے۔ 
امریکی میڈیا کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کرنے کا ایک “بہت اچھا موقع” موجود ہے تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائیوں اور حملوں کی طرف واپس جا سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران معاہدے کو تسلیم کرتا ہے تو معاملہ ختم ہو جائے گا، لیکن انکار کی صورت میں بمباری کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں افزودہ یورینیم کی امریکا منتقلی ضروری نہیں ہوگی اور ایران کی یورینیم افزودگی کو 3.67 فیصد تک محدود کرنے کی شرط بھی اس معاہدے کا حصہ نہیں۔

امریکی صدر کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اس مذاکراتی عمل میں بھیجنے کا امکان بھی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر آخری ملاقات میں کسی جگہ معاہدے پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں ایران کی مدد کا معاملہ نہیں اٹھائیں گے، اور ایران سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا سخت اقدامات کرے گا۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کی جانب سے شرائط نہ مانی گئیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے شرائط مان لینے کی صورت میں جاری آپریشن ’ایپک فیوری‘ فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا اور خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، آبنائے ہرمز میں ایران سمیت تمام ممالک کو آزادانہ رسائی دی جائے گی۔

تاہم امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو امریکی حملے مزید شدت اختیار کریں گے، انہوں نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک فیصلہ کن موقع ہے اور عالمی امن کے لیے تہران کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات براہ راست عالمی معیشت پر پڑتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں پیشرفت کی خوشخبری سناتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ روکنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی درخواست اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیشرفت کے بعد بحیرۂ ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جبکہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔ 
 





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *