پاکستان فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف ایئر وائس مارشل طارق غازی نے جمعرات کو کہا ہے کہ مئی میں انڈیا سے ہونے والی جنگ آخری نہیں تھی اور وہ ’مستقبل کی جنگوں‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔
ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف ایئر وائس مارشل طارق غازی نے یہ بات جمعرات کو انڈیا کے خلاف گذشتہ سال مئی میں ہونے والی جنگ کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر اور پاکستان بحریہ کے ڈپٹی چیف نیول آپریشنز ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران کہی۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ سال مئی میں چار روزہ جنگ ہوئی جب انڈیا کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں پر بمباری اور ڈرونز حملے کیے گئے جس کے جواب میں پاکستان نے آٹھ کے قریب انڈین طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا جن میں رفال بھی شامل تھے۔
بعد ازاں امریکی صدر کی ثالثی کے بعد دونوں ممالک میں دس مئی کو سیزفائر ہوا جو اب تک برقرار ہے۔
اس حوالے سے جمعرات کو پاکستان کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف ایئروائس مارشل طارق غازی نے کہا کہ ’یہ ہماری آخری جنگ نہیں ہے، اگلی جنگوں کی جارحانہ انداز میں تیاری کر رہے ہیں۔‘
طارق غازی نے گذشتہ برس چھ سے 10 مئی کے دوران پاکستان کی جانب سے انڈیا کے دفاعی آلات گرائے جانے کے حوالے سے کہا کہ ’معرکہ حق کے دوران انڈیا کے آٹھ جنگی طیارے مار گرائے۔‘
انہوں نے کہا کہ تباہ کیے گئے طیاروں میں چار رفال، ایک ایس یو-30، ایک مگ-29 اور ایک میراج-2000 شامل ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک قیمتی ملٹی رول ان مینڈ ایریل سسٹم بھی تباہ کیا گیا جبکہ پی اے ایف سائبر فورس نے انڈیا کے ڈیٹا سینٹرز کو بھی ٹارگٹ کیا، اب کہا جا سکتا ہے کہ ’ہمارا سکور 0-8 ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب پریس بریفنگ میں موجود ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سب سے زیادہ کوششیں پاکستان کر رہا ہے، تاہم ملک کی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
جبکہ مشترکہ بریفنگ میں پاک بحریہ کے ڈپٹی چیف نیول آپریشنز ریئر ایڈ مرل شفاعت علی خان نے کہا کہ ’پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ زمانہ امن ہو یا جنگ، پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے۔‘
شفاعت علی خان کے مطابق انڈیا نے گذشتہ سال مئی میں بحری بیڑا تعینات کرنے کی کوشش کی تھی۔
’انڈیا کو اپنی بحری طاقت پر بہت ناز تھا اور اس کا بیڑا ہر طرح سے جدید ہتھیاروں سے لیس تھا، تاہم وہ پاکستان کے خلاف جارحیت کی ہمت نہیں کر سکا۔‘
انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دشمن کی نیوی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ استعمال کرتی تھی اور دعویٰ کیا جاتا تھا کہ انڈین بحریہ خطے کی طاقت ور ترین فورس ہے۔
’اگر انڈین بحریہ اتنی طاقت ور تھی تو پاکستان کے خلاف جارحیت کیوں نہ کر سکی؟‘
بریفنگ کے دوران ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے بطور ثالث کردار کا بھی حوالہ دیا گیا۔
تاہم دونوں ممالک کے مابین امن کے قیام سے متعلق ایک صفحہ پر مشتمل میمورینڈم کی تیاری کے قریب پہنچنے پر سوال کے جواب میں احمد شریف نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت خارجہ سے پوچھا جا سکتا ہے۔
