
(ویب ڈیسک) امریکہ نے ایران کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ آج ہفتے کا دن بھی ایران سے امریکی امن تجاویز کے جواب کے انتظار میں تمام ہو گیا لیکن کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔
امریکہ کی مسلح افواج کی مرکزی کمان، سینٹ کوم نے آج بتایا ہے کہ ایران کی ناکہ بندی کے آغازسے اب تک (ایران کی طرف آنے والے) 58تجارتی جہازوں کو واپس بھیجا گیا۔
امریکی مسلح افواج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایران کی ناکہ بندی کے لئے 10,000 سے زائد امریکی فوجی کام کر رہے ہیں۔
ناکہ بندی کے پہلے 48 گھنٹوں میں ہی 9 جہازوں کو روکا گیا تھا۔ امریکی فوج نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایرانی جہازوں کو نشانہ بنانے کا بھی بتایا۔ ایران نے ان اقدامات کو بحری قزاقی قرار دیا ہے اور سخت کارروائی کی وارننگ دی لیکن ناکہ بندی کسی تعطل کے بغیر جاری ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو امن معاہدہ کرنے پر مجبور کرنے، ایران کو باہر سے اسلحہ کی ترسیل روکنے کے لئے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ایرانی اقدام کا جواب دینے کے لئے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کئے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: چالیس ملکوں کا آبنائے ہرمز مشن؛ انگلینڈ سب سے بہلے جنگی بحری جہاز بھیجےگا
دوسری طرف واشنگٹن میں آج ہفتہ کے روز بھی تہران سے صدر ٹرمپ کی بھیجی ہوئی 14 نکات کی مفاہمت کی دستاویز پر کسی جواب کا انتظار کیا جاتا رہا۔ اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ جمعرات کو تہران سے جواب آ سکتا ہے۔ پھر کہا گیا کہ جمعہ کو تہران سے جواب آ جائے گا۔ آج ہفتے کا دن بھی جواب کے انتظار میں گزر گیا۔ امریکہ نے اپنی تجاویز پاکستان کی وساطت سے ایرانی حکام تک پہنچائی تھیں، اور توقع کی جا رہی تھی کہ ایران کی طرف سے ان تجاویز پر جواب اسلام آباد کو فراہم کیا جائے گا جہاں سے اسے امریکہ کے سفارتی حکام کے ذریعہ واشنگٹن تک پہنچا دیا جائے گا۔
