اسلام آباد ۔ 16 مئی (ایجنسیز) پاکستان ایران جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے واشنگٹن، تہران، بیجنگ اور اہم خلیجی اتحادیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے دباؤ میں ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی میڈیا رپورٹ نے اس پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن کوششوں میں غیر معمولی طور پر فعل کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد نے مذاکرات کی میزبانی کی ہے اور ابھی تک متحارب فریقین کے درمیان خفیہ سفارت کاری میں بطور واسطہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ اسلام آباد کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اسلام آباد خلیج میں استحکام کو پاکستان کے اپنے اقتصادی اور سلامتی مفادات سے جڑا ہوا سمجھتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع تر محاذ آرائی تجارتی راستوں کو متاثر کر سکتی ہے، توانائی کا بحران مزید گہرا کر سکتی ہے، فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکا سکتی ہے اور ایران کے ساتھ پاکستان کے حساس سرحدی علاقوں کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ پاکستانی حکومت کے لیے اس کا اپنا بین الاقوامی وقار بھی داؤ پر لگا ہوا ہے، کیونکہ وہ پوری دنیا کو متاثر کرنے والے اس تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم اس کی یہ کوششں خطرات سے خالی نہیں اور وہ اس کی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ واشنگٹن میں قائم اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اگر امریکہ، ایران مذاکرات کو بحال کرنے کی اس کی کوششیں ناکام ہوئیں تو پاکستان کو بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا کرنا پر سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس نے علیٰ الاعلان ثالثی میں سرفہرست کردار اپنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد پاکستان کے اختیارات محدود ہیں، کیونکہ ایک ثالث دو گہری بے اعتمادی رکھنے والے فریقوں کو مذاکرات پر مجبور نہیں کر سکتا۔
