
(24نیوز) 24 گھنٹوں میں 4 ہونہار میڈیکل سٹوڈنٹس کی خودکشی کے بعد بھارت میں پیپر لیک سکینڈل نے شدید نوعیت کا بھونچال برپا کر دیا ہے۔ پیپر لیک سکینڈل کو لے کر اب نریندر مودی کی مرکزی حکومت کے وزیر تعلیم کا استعفیٰ مانگا جا رہا ہے لیکن مودی حکومت مکمل خاموشی کے کمبل میں چھپ گئی ہے۔
اپوزیشن کانگریس نے ’نیٹ پیپر لیک‘ سے پیدا حالات پر شدید فکر کا اظہار کیا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر بھارتی شہریوں نے اس سکینڈل کو لے کر شدید بھونچال برپا کر دیا ہے۔
بھارت کے اپوزیشن اتحاد “انڈیا” کی سب سے اہم جماعت کانگرس کے لیڈر راہول گاندھی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت میں ذمہ داری نہیں ہوتی، صرف جعل سازی کا ایک طے فارمولہ ہے۔ پہلے طویل خاموشی، پھر گنہگاروں کو تحفظ، پھر سوال پوچھنے والوں پر حملہ۔‘‘
بھارت میں پیپر لیک سکینڈل اور چوبیس گھنٹوں میں چار سٹوڈنتس کی خودکشی کیا معاملہ ہے؟
بھارت میں پیپر لیک (امتحانی پرچے آؤٹ ہونے) اور امتحانات کی منسوخی کے بحران کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کا معاملہ اس وقت ایک قومی المیہ بن چکا ہے، اور صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں 4 میڈیکل سٹوڈنٹس امیدواروں (NEET Aspirants) نے امتحانات کی منسوخی اور پیپر لیک کے تناؤ کی وجہ سے خودکشی کر لی ہے۔
مجموعی طور پر، بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے مطابق امتحانی دباؤ اور اس طرح کے گھپلو ں کے سبب بھارت میں ہر سال 13,000 سے زائد طلبہ اپنی جانیں گنواتے ہیں۔
24 گھنٹوں میں 4 طلبہ کی خودکشی؛ معاملہ کیا ہے؟
چوبیس گھنٹوں میں چار بچوں کی خودکشی کا تازہ ترین معاملہ درج ذیل ہے: حال ہی میں ہونے والے میڈیکل کے سب سے بڑے داخلہ امتحان NEET-UG 2026 کے پیپر لیک ہون گئے۔ یہ کام امتحان مین شریک امیر سٹوڈنٹس کو امتحانی پرچہ امتحان منعقد ہونے سے پہلے ہی فروخت کر دینے کے منظم دھندے کا شاخسانہ ہے۔ پہلے بھی پیپر لیک ہوتے رہے لیکن اب پیپر لیک کا ایک بہت بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔
اس پیپر لیک سکینڈل کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) کی تحقیقات کے بعد امتحان کو منسوخ کر کے دوبارہ کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔
امتحانات کی اچانک منسوخی اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال نے تمام طلبہ کو شدید ذہنی صدمے اور ڈپریشن میں مبتلا کر دیا جنہوں نے سالہا سال محنت کی تھی اور اچھے نمبروں کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ لیکن بعض سٹوڈنٹس زیادہ پیچیدہ صورتحال میں تھے۔امتحان اچھا ہو جانے کے بعد اچانک پیپر لیک ہو جانے سے ان میں سے کچھ بہت زیادہ ڈپریس ہوئے۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں سٹوڈنٹس کی خودکشی کے یہ 4 انتہائی دردناک واقعات سامنے آئے:
پردیپ ماہیچ (سیکر، راجستھان): 22 سالہ پردیپ نے امتحان کے بعد اپنے نمبروں کا حساب لگایا تھا، وہ 650 نمبر (بہترین اسکور) کی توقع کر رہا تھا۔ لیکن پیپر لیک کے بعد امتحان منسوخ ہونے اور دوبارہ ٹیسٹ کی تاریخ آنے پر وہ شدید ڈپریشن میں چلا گیا اور پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔
رِتک مشرا (لکھم پور کھیری، اتر پردیش): 21 سالہ رِتک کی یہ تیسری کوشش تھی اور وہ کانپور سینٹر سے پرچہ دے کر بہت خوش اور پرامید تھا۔ امتحان کی منسوخی کی خبر سن کر وہ ذہنی دباؤ برداشت نہ کر سکا اور اپنے کمرے میں پنکھے سے لٹک گیا۔
مزید دو طلبہ (جموں و کشمیر اور راجستھان): اسی 24 گھنٹے کے دوران مزید دو نوجوان نیٹ (NEET) امیدواروں نے امتحانی نظام میں بار بار کی ناکامیوں اور ذہنی دباؤ کے سبب انتہائی قدم اٹھایا جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پیپر لیک اور بھارت کے امتحانی نظام کا بحران
بھارت میں “پیپر لیک” ایک منظم مافیا کا دھندا بن چکا ہے۔ یہ مافیا امتحانات منعقد کرنے والے اداروں کے اہم اہلکاروں کے ساتھ بھاری رشوت کو لین دین کر کے کروڑوں روپے کے عوض امتحانی پرچے امتحان منعقد ہونے سے پہلے ہی حاصل کر لیتا ہے اور پھر اس مافیا کے کارندے امتحانی پرچے کی کاپی امیر سٹوڈنتس کو بیچتے ہیں۔ اس عمل سے ایمانداری کے ساتھ محنت کرنے پر انحصار کرنے والے سٹوڈنٹس ے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔
جب کبھی پیپر لیک ہونے کے یہ گھپلے پکڑے جاتے ہیں تو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) یا حکومت امتحانات منسوخ کر دیتی ہے۔ امتحان منسوخ ہونے کا بھی سب سے بڑا نقصان غریب اور متوسط طبقے کے ان سٹوڈنٹس کو ہوتا ہے جو دن رات محنت کرتے ہیں اور امتحانی نظام میں لٹیروں کی موجودگی سے پیدا ہونے والی اس خرابی کی وجہ سے اپنے کیرئیر مین سخت نقصانات بھگتتے ہیں۔
بھارتی سیاستدانوں کا سخت ردعمل
’’مودی حکومت اور این ٹی اے کی ناکامی سے نیٹ کا پیپر لیک ہو جانے کے بعد امتحان منسوخ ہو جانےکے سبب لاکھوں طلبا ذہنی تناؤ سے نبرد آزما ہیں۔ افسوسناک یہ ہے کہ حکومت کے بدعنوان سسٹم کی وجہ سے کچھ طلبا نے اپنی جان دے دی، جو مودی حکومت کے تعلیمی نظام پر داغ ہے۔‘‘ یہ بیان اپوزیشن کی سب سے بری جماعت کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر دیا ہے، کیونکہ نیٹ پیپر لیک کے بعد بھلے ہی حکومت نے از سر نو امتحان لینے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن اس سے طلبا شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ راہل گاندھی نے تو اپنے ایک بیان میں نیٹ پیپر لیک کو طلبا پر ظلم قرار دیا ہے۔ پیپر لیک کے خلاف کانگریس کی طلبا تنظیم این ایس یو آئی نے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں کینڈل مارچ بھی نکالا۔ اس دوران ذہنی دباؤ کے سبب مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبا کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔
मोदी सरकार और NTA की विफलता से NEET का पेपर लीक हो गया, जिसके कारण लाखों छात्र मानसिक तनाव से जूझ रहे हैं।
दुखद यह है कि सरकार के भ्रष्ट सिस्टम की वजह से कुछ छात्रों ने अपनी जान दे दी, जो मोदी सरकार की शिक्षा व्यवस्था पर कलंक है।
आज NSUI अध्यक्ष @VinodJakharIN जी के नेतृत्व में… pic.twitter.com/duvl13SkWY
— Congress (@INCIndia) May 16, 2026
راجستھان اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد ٹیکا رام جولی نے پیپر لیک کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے پرانے وعدے کی یاد دلائی ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’’نریندر مودی نے راجستھان میں کہا تھا، میں نوجوانوں کا مستقبل برباد نہیں ہونے دوں گا۔ انھوں نے نوجوانوں سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ لیکن جب نیٹ کا پیپر لیک ہو گیا، بچے خودکشی کر رہے ہیں، تب نریندر مودی ایک لفظ نہیں بول رہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی مدت کار میں لگاتار پیپر لیک ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی ذمہ داری طے کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ لیا جانا چاہیے۔ اس پیپر لیک کے معاملے میں بی جے پی لیڈران پکڑے گئے ہیں۔ شروع میں تو راجستھان پولیس اس معاملے میں ایف آئی آر تک درج نہیں کر رہی تھی اور اسے دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔‘‘
नरेंद्र मोदी ने राजस्थान में कहा था- मैं युवाओं का भविष्य बर्बाद नहीं होने दूंगा और युवाओं से बड़े-बड़े वादे किए थे।
लेकिन जब NEET का पेपर लगातार लीक हो गया, बच्चे आत्महत्या कर रहे हैं, तब नरेंद्र मोदी एक शब्द नहीं बोल रहे।
शिक्षा मंत्री धर्मेंद्र प्रधान के कार्यकाल में लगातार… pic.twitter.com/XL1ez2epgL
— Congress (@INCIndia) May 16, 2026
انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) کے صدر اودے بھانو چِب نے بھی طلبا کی خودکشی معاملہ پر اپنے شدید غم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے سبب گزشتہ 24 گھنٹے میں 4 سے زیادہ طلبا نے خودکشی کی ہے۔ یہ خودکشی نہیں، ادارہ جاتی قتل ہیں۔ جس کی ذمہ دار بی جے پی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اگر نریندر مودی میں تھوڑی سی بھی اخلاقیات ہے تو انھیں دھرمیندر پردھان کو فوراً عہدہ سے دستبردار کر دینا چاہیے۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ مل کر پیپر لیک کرواتے ہیں اور پیسہ بناتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے نیٹ کے امیدواروں سے گزارش بھی کی ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں جس سے ان کے والدین کو تکلیف پہنچے۔
NEET पेपर लीक के कारण पिछले 24 घंटे में 4 से ज्यादा छात्रों ने आत्महत्या की है।
ये आत्महत्या नहीं, संस्थागत हत्याएं हैं। जिसकी जिम्मेदार BJP सरकार और शिक्षा मंत्री धर्मेंद्र प्रधान हैं।
अगर नरेंद्र मोदी में थोड़ी सी भी नैतिकता है, तो उन्हें धर्मेंद्र प्रधान को तत्काल पद से… pic.twitter.com/IC3jXpKZU2
— Congress (@INCIndia) May 16, 2026
راہول گانڈھی سخت غصے میں
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہول گاندھی لگاتار نیٹ یو جی پیپر لیک معاملہ پر وزیر اعظم مودی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے آج سوشل میڈیا پر کئی پوسٹ ڈالی ہیں، جن میں سے ایک میں لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت میں ذمہ داری نہیں ہوتی، صرف جعل سازی کا ایک طے فارمولہ ہے۔ پہلے طویل خاموشی، پھر گنہگاروں کو تحفظ، پھر سوال پوچھنے والوں پر حملہ۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’نیٹ پیپر لیک ہوا، ایک بھی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ 2024 میں این ٹی اے ڈائریکٹر جنرل کو ’ہٹایا‘، اب وزیر اعلیٰ کا چیف سکریٹری بنا دیا۔ یہ حکومت جواب دہی لینے والی نہیں، جوابدہی سے دور بھاگنے کی مشین ہے۔‘‘
मोदी सरकार में ज़िम्मेदारी नहीं होती – सिर्फ़ जालसाज़ी का एक तय फ़ॉर्मूला है।
पहले लंबी खामोशी।
फिर गुनहगारों को संरक्षण।
फिर सवाल पूछने वालों पर हमला।NEET पेपर लीक हुआ – एक भी मंत्री ने इस्तीफ़ा नहीं दिया।
2024 में NTA DG को “हटाया” – अब मुख्यमंत्री का प्रमुख सचिव बना दिया।… https://t.co/sIhFXa7cwC
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) May 16, 2026
اس درمیان راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اپنے بیان میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبا میں موجود غصہ کا ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’گزشتہ کچھ سالوں میں نیٹ کے پیپر لگاتار لیک ہوئے ہیں۔ اس کے خلاف بہت غصہ ہے، لیکن بی جے پی حکومت اسے سمجھ نہیں رہی ہے۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ناقابل لوگوں کو عہدوں پر بٹھا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لاکھوں طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔ دھرمیندر پردھان کو اس ناکامی کے لیے فوراً استعفیٰ دینا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو نریندر مودی کو انھیں اپنی کابینہ سے برخاست کر دینا چاہیے۔‘‘
पिछले कुछ वर्षों में NEET के पेपर लगातार लीक हुए हैं। इसके ख़िलाफ़ बहुत आक्रोश है, लेकिन BJP सरकार इसे समझ नहीं रही है।
शिक्षा मंत्री धर्मेंद्र प्रधान ने नाकाबिल लोगों को पदों पर बैठा रखा है। यही वजह है कि आज लाखों छात्रों के भविष्य के साथ खिलवाड़ हो रहा है।
धर्मेंद्र प्रधान… pic.twitter.com/uog3JpPUiP
— Congress (@INCIndia) May 16, 2026
اشوک گہلوت نے پیپر لیک معاملہ میں راہل گاندھی کے ذریعہ دیے گئے بیان کا ذکر بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی جی نے بار بار کہا ہے کہ حکومت کو اس مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا، تاکہ ایسا پھر کبھی نہ ہو۔ لیکن راہل گاندھی کی بات کو سنجیدگی سے نہ لینے کا خمیازہ آج طلبا کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے سرکردہ لیڈران نیٹ یو جی پیپر لیک معاملہ پر لگاتار آواز بلند کر رہے ہیں اور وزیر تعلیم کا استعفیٰ بھی مانگ رہے ہیں، لیکن اس بارے میں نہ تو وزیر اعظم نے ابھی تک کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی اپوزیشن لیڈران کے بیان پر وزیر تعلیم کوئی رد عمل دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: بنوں پولیس کی دہشت گردوں کیخلاف بڑی کامیابی، 5 خطرناک دہشت گرد جہنم واصل
