آزادی رائے کیا ہے؟ کیا آزادی رائے کا مطلب یہ ہے کہ جس کی چاہے عزت اچھال دو، کردار کشی کر دو، گالم گلوچ اور غیر اخلاقی مہم برپا کردو اور جواب میں قانون دستک دے اور کوئی نوٹس موصول ہو تو رونا دھونا شروع کر دو کہ میں نے کون سا غلط کام کیا ہے کہ مجھے نوٹس بھیج دیا؟
الزام تراشی، کردار کشی، غلیظ مہم، اتنے کچھ کے بعد کمال سادگی سے کہنا کہ میں نے کیا ہی کیا ہے کہ مجھے اسلام آباد بلا لیا، یہ رویہ غور طلب ہے۔
معلوم نہیں اب یہ سادگی ہے، قانون سے لاعلمی ہے یا سوشل میڈیا مینجمنٹ سکل ہے کہ روتے ہوئے ایک ویڈیو ڈال کر عوامی جذبات کو ایک خاص سمت دے دی جائے، تاہم یہ جو کچھ بھی ہے اس کا آزادی رائے سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔
ہمارے ہاں بعض چیزیں سمجھے اور جانے بغیر تواتر سے دہرائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آزادی رائے ہمارا آئینی حق ہے۔ یہاں لوگ اپنی تلخی، الزام، دشنام اور غیر شائستگی کو اپنا بنیادی انسانی حق سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں انہیں یہ حق آئینِ پاکستان نے دے رکھا ہے۔
حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس روز لوگوں کو آئین اور قانون کے عین مطابق آزادی رائے کا حق دیا گیا، اس روز ایک تہائی آبادی اڈیالہ کی طرف جا رہی ہو گی۔
آئین کے آرٹیکل 19 کو ہمارے ہاں آزادی رائے کی ضمانت سمجھا جاتا ہے لیکن اس میں دو بنیادی باتیں بھلا دی جاتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ آرٹیکل 19 میں دی گئی آزادی رائے غیر مشروط نہیں، یہ مشروط ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس پر منطقی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ یعنی یہ حتمی نہیں ہے۔
آرٹیکل 19 جہاں آزادی رائے کا حق دیتا ہے، وہیں وہ اس کی حدود و قیود بھی بتا دیتا ہے۔ اس آرٹیکل میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جہاں اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امنِ عامہ، شائستگی، اخلاقیات، عدالت کی توہین، کسی جرم کے ارتکاب یا کسی جرم پر اکسانے کا معاملہ ہو گا، وہاں آزادی رائے پر پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔
اب ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے؟ پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے کیا کچھ لکھا جا رہا ہے۔ شائستگی ا ور اخلاقیات کا کیا حشر کر دیا گیا ہے، سوشل میڈیا پر قانون کی پامالی پر کیسے کیسے اکسایا جاتا ہے، کیا اس سب کو آزادی رائے کہا جا سکتا ہے؟ یہ آزادی رائے نہیں ہے، یہ آرٹیکل 19 کی پامالی ہے۔
لوگ تو اپنی آزادی رائے کے زعم میں، یہاں قیامِ پاکستان تک پر سوال اٹھا دیتے ہیں، نظریہ پاکستان کا تو باقاعدہ تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ کیا انہیں معلوم ہے کہ قیامِ پاکستان کے بارے میں اس طرح کی بات کرنے پر قانون کیا کہتا ہے؟ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 123 اے کے تحت اس جرم کی سزا 10 سال تک قیدِ بامشقت ہے اور ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ جس دن قانون کے مطابق معاملہ ہونا شروع ہوا، لگ پتہ جائے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خواجہ سعد رفیق کے بارے میں جو جھوٹی مہم چلائی گئی، وہ طوفانِ بدتمیزی کا صرف ایک پہلو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں آزادی رائے روز دوسروں کی پگڑیاں اچھالتی ہے۔ کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ جس پر جو الزام جی میں آئے لگا دیجیے۔
کردار کشی ایک فن بن چکا ہے۔ معتبر وہی ہے، جس کے شر سے لوگ پناہ مانگتے ہوں۔ لوگ اس کردار کشی کو اپنی آزادی رائے سمجھتے ہیں لیکن یہ بھی ایک جرم ہے اور کسی کی تذلیل اور توہین کی سزا دو سال قید ہے۔
دیوانی کارروائی الگ ہے۔ چنانچہ جب نوٹس پہنچتے ہیں تو دہائی دی جانے لگتی ہے، ہم نے کیا غلط کیا تھا کہ نوٹس بھیج دیا، اب ہم سیالکوٹ سے اسلام آباد کیسے جائیں۔
یہاں فیشن کے طور پر پاکستان کے قومی بیانیے کی نفی کی جاتی ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس قسم کی آزادی رائے کے لیے پریونشن آف اینٹی نیشنل ایکٹویٹیز ایکٹ 1974 اور اینٹی نیشنل ایکٹویٹیز رولزز 1974 موجود ہیں ۔ایکٹ کی دفعہ 13 کے مطابق نہ صرف ایسی سرگرمی میں حصہ لینے والوں کے لیے سات سال قید ہے ۔
ہمارے ہاں آزادی رائے کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ریاست کے ہر موقف کی نفی کرنی چاہیے۔ یہاں کوئی ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کے ناجائز موقف کی تائید فرما رہا ہوتا ہے اور کسی کے نزدیک کشمیر کے معاملے کی خرابی کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔
کوئی پاکستان میں علیحدگی کے کسی ایک عنوان کو پرچم بنا لیتا ہے اور کوئی کسی دوسرے علیحدگی پسند مسلح گروہ کی فکری حمایت میں مضامین باندھتا ہے۔ انہیں نظر انداز کیا گیا تو یہ ایک الگ معاملہ ہے، ورنہ یہ تمام سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہمہ جہت مہم کا ایک حصہ ہیں اور اس کی سزا بھی 10 سال قید ہے۔
یہاں ہماری خود ساختہ آزادی رائے نے پاکستان کے ہر دوست ملک کے خلاف بیانیہ بنایا ہے۔ آزادی رائے کا یہ روپ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت بھی ناجائز ہے اور سکیورٹی آف پاکستان ایکٹ 1952 کی دفعہ 11 اس قماش کی آزادی رائے سے نمٹنے کے لیے ریاست کو کافی اختیارات دیتی ہے۔
درست یا غلط کی بحث الگ ہے، لیکن قانون کے تحت آزادی رائے کی بات کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 124 اے کے تحت اگر آپ حکومت کے بارے میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی سزا عمر قید ہو سکتی ہے۔
تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہ چکیں اور کسی نے اس قانون کو تبدیل نہیں کیا حالانکہ یہ سادہ اکثریت سے بدل سکتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تینوں جماعتیں اسے درست سمجھتی ہیں۔
فوج کے خلاف بات کرنا فیشن بنا لیا گیا ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ ماضی قریب میں جناب امجد علی خان صاحب نے ایک پرائیویٹ کرمنل لا امینڈمنٹ بل کے ذریعے اس کے لیے دو سال قید اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزا تجویز کی تھی، جو پارلیمان نے قبول کر کے قانون بنا دیا۔ ویسے کیا خیال ہے کہ اگر یہی قانون نافذ ہونا شروع جائے تو آزادی رائے کو افاقہ ہو جائے گا؟
بات وہی ہے کہ ہمارے سماج میں آزادی رائے کے تصور کو درست تناظر میں سمجھا ہی نہیں گیا۔ اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں، چنانچہ اگر کوئی گرفت میں آ بھی جائے تو وہ حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ میں نے ایسا کر دیا کہ سعد رفیق نے مجھے نوٹس بھجوا دیا۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
