Sat. May 23rd, 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دورہ انڈیا، تعلقات میں بہتری کی کوشش؟

395513 1111804965


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تجارت اور توانائی کے موضوع پر بات چیت کی۔

یہ دورہ اس مقصد کے لیے کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے، جو واشنگٹن کے ٹیرف اور پاکستان و چین کے ساتھ اس کے روابط کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔

ملاقات کے بعد امریکہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مارکو روبیو، جنہوں نے دورے سے قبل کہا تھا کہ امریکہ انڈیا کو توانائی فروخت کرنا چاہتا ہے، نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے مودی سے کہا کہ ’امریکی توانائی مصنوعات انڈیا کی توانائی سپلائی کو متنوع بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘

مارکو روبیو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ ایران کو عالمی توانائی مارکیٹ کو یرغمال نہیں بنانے دے گا۔‘

ایران جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران نے انڈیا کو روسی تیل سے دور کرنے کی امریکی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔

امریکی صدور، بشمول ٹرمپ اپنے پہلے دور میں، طویل عرصے سے کوشش کرتے رہے ہیں کہ تاریخی طور پر غیر جانبدار انڈیا کو روس اور ابھرتے ہوئے چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک توازن کے طور پر قریب لایا جائے۔

تاہم پچھلے سال یہ کوششیں اس وقت متاثر ہوئیں جب ٹرمپ نے انڈیا پر سب سے زیادہ امریکی ٹیرف عائد کیے۔

ٹیرف سے متاثرہ تعلقات بحال کرنے کی کوشش

ان میں سے کئی ٹیرف بعد میں عارضی معاہدے میں واپس لے لیے گئے، لیکن دونوں ممالک ابھی تک مکمل تجارتی معاہدہ طے نہیں کر سکے۔

اسی دوران امریکہ انڈیا کے حریف اور پڑوسی پاکستان کے قریب بھی ہوا ہے اور اسلام آباد ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ایک اہم رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا ہے، جو امریکہ-انڈیا تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کا باعث بنا ہے۔

اگرچہ مودی نے ہفتے کو ہونے والی ملاقات میں ایران کا براہ راست ذکر نہیں کیا، تاہم انڈین حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے امن کوششوں کی حمایت اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈیا میں امریکی سفیر سیرجیو گور نے بتایا کہ مارکو روبیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مودی کو مستقبل قریب میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت بھی دی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے جنوبی ایشیا کے لیے سابق پالیسی ماہر اور دی ایشیا گروپ کنسلٹنسی سے وابستہ باسنت سنگھیرا کے مطابق رواں ماہ ٹرمپ کے دورہ بیجنگ نے امریکہ کے ساتھ انڈیا کے تعلقات پر مزید خدشات پیدا کیے، یہ بات

سنگھیرا کے مطابق ٹرمپ کا انداز انڈیا میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ’تشویش کا ایک مکمل طوفان‘ پیدا کر چکا ہے، لیکن تعلقات اب مستحکم ہو رہے ہیں اور دونوں طرف تعاون کے شعبوں میں پیش رفت کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے انڈیا کو ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر خاص توجہ دی اور 2023 کے ریاستی دورے میں مودی کی میزبانی کی۔

ٹرمپ نے بھی اپنے دوسرے دور کے آغاز میں مودی کو وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا تھا، مگر بعد میں بھاری ٹیرف عائد کر کے تعلقات کو متاثر کیا۔

بااثر سفیر

امریکی سفیر سیرجیو گور، جنہیں اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین نے ’انڈیا وسپرر‘ کہا ہے، جنوری میں نئی دہلی پہنچے اور تعلقات کی بحالی کی کوششیں شروع کیں۔

سیرجیو گور ٹرمپ کے قریبی دوست اور پہلے وائٹ ہاؤس کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔

فروری میں دونوں ممالک نے تجارتی معاملات پر ’عارضی معاہدے کے فریم ورک‘ پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت انڈین مصنوعات پر ٹرمپ کے ٹیرف 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کی بات ہوئی، جن میں سے نصف روسی تیل کی خریداری سے متعلق تھا۔

تاہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کی باتیں اس وقت سست ہو گئیں جب فروری کے آخر میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ٹیرف کو کالعدم قرار دیا۔

اس کے نتیجے میں انڈین مصنوعات پر ڈیوٹی 10 فیصد تک آ گئی، لیکن نئی دہلی اپنی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے تحت تحقیقات کر رہی ہے، جن سے دوبارہ زیادہ ٹیرف لگنے کا امکان ہے۔

نئی دہلی نے ٹرمپ کے انڈیا کے دورے پر اصرار کیا ہے، جو کواڈ سربراہی اجلاس سے منسلک تھا (جس میں امریکہ، انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں)، لیکن ماہرین کے مطابق تجارتی کشیدگی اور دیگر عالمی مسائل کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلقات کی موجودہ سمت کو بدلنے میں مارکو روبیو کا زیادہ اثر نہیں ہوگا۔

روبیو آئندہ ہفتے انڈیا میں ہونے والے کواڈ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جو تیسرا ایسا اجلاس ہے جس میں سربراہانِ مملکت کی سطح پر شرکت نہیں ہو رہی اور یہ گروپ کی حیثیت میں ایک غیر رسمی کمی تصور کی جا رہی ہے۔

ہفتے کو امریکی دفتر نے کہا کہ روبیو نے انڈیا کی جانب سے آئندہ کواڈ وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبانی کو سراہا، تاہم ٹرمپ کے ممکنہ دورے کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *