ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے اتنی جلدی بعد ولادی میر پوتن کی بیجنگ آمد بین الاقوامی تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔
20 ویں صدی کے نصف آخر کی غالب سپر پاورز کے رہنما واضح طور پر عالمی برتری کی باگ ڈور چین کے حوالے کر رہے ہیں۔ آج کل روسی اور امریکی، دونوں صدور بیجنگ کا دورہ ایسے سائلین کے طور پر کرتے ہیں جو ممنوعہ شہر کے مکین سے حمایت اور توثیق کے طلب گار ہوں۔
ایسا لگتا ہے کہ بیجنگ چینی سلطنت کے دارالحکومت کے اپنے روایتی کردار کی جانب لوٹ رہا ہے۔ یہ وہ سورج ہے جس کے گرد دیگر تمام سیارے گردش کرتے ہیں۔ چین کی خواہش ہے کہ یوکرین اور ایران میں جنگیں ختم ہوں۔
وہ روس اور یوکرین کے راستے یورپ تک زمینی ریلوے روابط کو دوبارہ کھولنا چاہتا ہے۔ اس صورت کے پیشِ نظر کہ کہیں ٹرمپ کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب نہ ہو جائیں۔ شی، کریملن اور کیئف کے درمیان اس تصفیے میں ثالثی کر سکتے ہیں جہاں ٹرمپ بری طرح ناکام رہے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ بیجنگ سے آنے والے ہر اشارے کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے۔ آج صبح فنانشل ٹائمز نے شی کی جانب سے ٹرمپ سے بے احتیاطی میں کہی گئی اس بات پر رپورٹ دی کہ ولادی میر پوتن کو یوکرین پر اپنے حملے پر ’پچھتانا پڑ سکتا ہے‘، جس نے واقعی صورت حال میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، تاہم چین نے اب اس کی تردید کر دی ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ روس یوکرین کی جنگ میں بری طرح پھنس چکا ہے، اور ماسکو کے مشرق میں بھی یوکرین کے بڑھتے ہوئے ڈرون حملے پوتن کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔ امریکہ ایران کے معاملے میں ایک تعطل کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
چین میں پوتن کی آمد سے عین قبل ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان کہ وہ خلیجی عرب رہنماؤں کی ’درخواست‘ پر ایران پر دوبارہ بمباری شروع کرنے کو ٹال رہے ہیں۔ شاید محض پردہ پوشی کا ایک بہانہ تھا تاکہ شی اور پوتن کو فوری طور پر اپنا مشترکہ ردعمل دینے پر مجبور ہونے سے بچایا جا سکے۔
شاید ٹرمپ کو امید ہے کہ ایران کے دو بڑے حامی تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے تاکہ وہ نئے تنازعے سے بچنے کے لیے رعایتیں دے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ صدر شی دو دیگر ایٹمی طاقتوں کی عالمی تعاون کی جانب رہنمائی کر رہے ہیں، جس میں وہ نہ صرف عوامی جمہوریہ چین کے سربراہ کے طور پر بلکہ مشرق وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ کی ایک زیادہ مضبوط شکل کے سربراہ کے طور پر بھی صدارت کر رہے ہیں۔
چین نام نہاد ’تھوسیڈائڈز ٹریپ‘ سے بچنا چاہتا ہے۔ شی جن پنگ نے ایک ابھرتی ہوئی طاقت اور ایک مسلّمہ طاقت کے درمیان بڑی جنگ کے بدنام زمانہ قدیم یونانی ماڈل کا حوالہ دیا ہے۔ ایتھنز اور سپارٹا کے درمیان جنگ کو اینگلو جرمن رقابتوں کی ایک تشبیہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے گذشتہ صدی میں دو عالمی جنگیں ہوئیں۔
امریکہ کے اپنے ارادے ہیں۔ ٹرمپ کا مشاہدہ کرنے والے کچھ تجزیہ کاروں نے تو یہ قیاس بھی کیا ہے کہ امریکی صدر یوکرین پر روس کے حملے پر’نرم‘ رہے ہیں کیوں کہ وہ ولادی میر پوتن کو شی کی قربت سے دور کرنے کی امید رکھتے تھے۔ درحقیقت، ٹرمپ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کا فائدہ اٹھانے کے لیے 1971 کے بعد ماؤ کے چین سے نکسن اور کسنجر کی قربت کے بالکل برعکس کھیل کھیل رہے تھے۔
اس بات کا کہیں زیادہ امکان ہے کہ امریکہ اثر و رسوخ کے دائروں کو تسلیم کر لے۔ روس مشرقی یورپ میں واشنگٹن کی عدم مداخلت کے بدلے براعظم امریکہ میں وینزویلا اور کیوبا جیسے اپنے اتحادیوں سے دستبردار ہو جائے۔ اسی طرح چین کے معاشی مفادات کا بھی احترام کیا جائے۔
اگر ’بگ تھری‘ آپس میں تعاون کرتے ہیں تو نقصان کس کا ہو گا؟
چھوٹے پڑوسیوں کو یقینی طور پر ایک تاریک مستقبل کا سامنا ہے لیکن سب سے بڑا نقصان یورپ کا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بیجنگ کی اہمیت کی درجہ بندی میں یورپ کا مقام بہت نیچے ہے۔ ذرا سوچیں کہ الیکٹرک گاڑیوں پر چین کی بڑی سرمایہ کاری نے کس طرح عالمی کاروں کی پیداوار میں جرمن آٹوموبائل انڈسٹری کا حصہ ڈرامائی طور پر کم کر دیا ہے۔
روس اور امریکہ ایسا خام مال پیدا کرتے ہیں جس کے بغیر چین کا گزارہ نہیں۔ دونوں ممالک اشیائے خورونوش فراہم کرتے ہیں اور روس چینی صنعت کو چلانے کے لیے توانائی اور دھاتیں فروخت کرتا ہے۔ یورپ چینی صنعت کا مقابلہ کرتا ہے لیکن روس پر پابندیوں، اور اب ایران پر ٹرمپ کے حملے کے ساتھ ساتھ اپنی حکومتوں کے ماحول دوست توانائی کے عزم کی وجہ سے، اس کے روایتی صنعت کاروں کو توانائی کی بہت زیادہ قیمتوں کا سامنا ہے۔
چینی درآمدات کے ایک ذریعے کے طور پر یورپ کی اہمیت کم ہو رہی ہے اور چین، روس اور امریکہ کے مقابلے میں بیک وقت اپنی معاشی اور املاک دانش کی خودمختاری منوانے کی اس کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ، یورپی ممالک مزید چند دہائیوں تک ایک ریگولیٹری ’گریٹ فائر وال‘ کے پیچھے پناہ لے سکتے ہیں، لیکن چین کی اپنی تاریخ بتاتی ہے کہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلی کے اس دور میں ایسے دفاع کس قدر کمزور ہوتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک وقت تھا جب ’اقدار‘ مغرب کو باقی دنیا کے مقابلے میں متحد کرتی تھیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں پامال کیے جانے کی بڑھتی ہوئی سخت مذمتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ جتنا ناراض ہے، اتنا ہی بے بس بھی ہے۔
مثال کے طور پر، چین، روس اور امریکہ میں یہ بات مشترک ہے کہ ان میں سے کوئی بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے۔ اگرچہ اس کے استغاثہ یوکرین پر حملے کے نتائج پر ولادی میر پوتن، اور ساتھ ہی غزہ جنگ کے انسانی نقصان پر ٹرمپ کے قریبی ترین اتحادی، اسرائیل کے بنجمن نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ چین اور روس بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیں جو کہ یورپ کی ایک اہم قدر یعنی سیاسی رہنماؤں کے احتساب کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن اہم بڑی طاقتوں کی حمایت کے بغیر، آئی سی سی بے بس ہو کر رہ گئی ہے، یا زیادہ سے زیادہ یہ چھوٹے موٹے سیاسی لوگوں کے لیے انصاف کا سامنا کرنے کی جگہ بن گئی ہے، جس سے عالمی انصاف کا تصور مجروح ہوتا ہے۔
بیجنگ میں شی جن پنگ کے یکے بعد دیگرے ہونے والے سربراہی اجلاسوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اب ایک ابھرتے ہوئے بدترین عالمی نظام کا محور بن چکا ہے۔ دنیا کو چلانے کے انداز پر اثر انداز ہونے کی اپنی صلاحیت پر انحصار کرنے کے بجائے، یورپی ممالک ماسکو یا واشنگٹن میں تبدیلی سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
