
(24 نیوز) غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی بحران انتہائی سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کارروائیوں میں اب تک تقریباً 21 ہزار فلسطینی بچے مستقل طور پر معذور ہو چکے ہیں جبکہ 40؍ ہزار 500سے زیادہ بچے زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار نہ صرف بمباری اور زمینی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں بلکہ بھوک، قحط اور ادویات کی شدید قلت نے بھی عام فلسطینیوں اور بچوں کو معذوری کی طرف دھکیل دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران فلسطینی خاندانوں کو اکثر اچانک انخلاء پر مجبور کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:غزہ:بمباری میں مزید 79 فلسطینی شہید ،امریکا کی فلسطین کو تسلیم کرنیوالے ممالک کودھمکیاں
معذوری کا شکار افراد کے لیے یہ صورتحال اور بھی تکلیف دہ اور توہین آمیز بن جاتی ہے کیونکہ انہیں جبراً نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔
رپورٹ میں ایسے مناظر کا بھی ذکر ہے جہاں معذور فلسطینی شہری رینگتے ہوئے ریت اور ملبے پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ کسی محفوظ مقام تک پہنچ سکیں۔
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔
