
(ویب ڈیسک)بنگلہ دیش کے ایک ہوٹل میں امریکی اسپیشل فورسز کے افسر کی پراسرار موت نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ڈھاکہ پولیس نے اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ یہ قدرتی موت معلوم ہوتی ہے۔کوئی چوٹ نہیں ہے، جھگڑےکا کوئی نشان نہیں ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کرایا گیا؟ بغیر کسی طبی معائنے کے لاش کو براہ راست امریکی سفارتخانے کے حوالے کر دیا گیا۔ اب ان کی موت خود ایک معمہ بن گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہ یہاں کاروبار کے سلسلے میں آیا تھا لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کام کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ا س کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا ۔بنگلہ دیش میں بغاوت سے پہلے شیخ حسینہ نے الزام لگایا تھا کہ امریکہ ایک بیس چاہتا ہے۔ انکی بے دخلی کے بعد بھی کئی بار یہ الزامات لگائے گئے کہ یونس کے آنے کے بعد بنگلہ دیش میں امریکہ کی مداخلت بڑھ گئی ہے۔ اب کچھ ایسا ہوا ہے جو مزید کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 31 اگست کو ڈھاکہ کے ہوٹل ویسٹن کی آٹھویں منزل پر اچانک ہنگامہ مچ گیا۔ کمرہ نمبر 808 کا دروازہ کھولا گیا تو وہاں ایک لاش پڑی تھی۔ یہ لاش کسی عام آدمی کی نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی تھی جو دونوں ممالک کے درمیان بڑا سفارتی بحران پیدا کر سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جب اس شخص کی شناخت کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ امریکہ کی اسپیشل فورسز کا سینئر افسر ٹیرنس آرول جیکسن تھا۔ اس 50 سالہ افسر نے میدان جنگ میں دو دہائیوں سے زیادہ وقت گزارا تھا۔ اب وہ ہوٹل کے بستر پر مردہ پایا گیا تھا۔
سی ایس آر جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹیرنس جیکسن نے 2006 میں امریکی فوج میں خدمات انجام دینا شروع کی تھیں۔اس سے قبل وہ نیشنل گارڈ میں تھا۔ وہ افغانستان سے ایشیا تک کئی مشنوں میں شامل تھا۔ اس کی یونٹ پہلی اسپیشل فورسز کمانڈ (ایئربورن) خفیہ اور خطرناک کارروائیوں کے لیے مشہور ہے۔ جیکسن خود کہا کرتے تھا کہ میں جلد ریٹائر ہو جاؤں گا اور سکون کی سانس لوں گا۔ لیکن اب ان کی موت خود ایک معمہ بن گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عید میلادالنبیؐ:جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب گیس لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی
