اسرائیل کی جانب سے 13 جون کو ایران کی متعدد فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری قیادت، جوہری سائنس دانوں اور عام شہریوں کی موت کے بعد آپریشن ’وعدہ صادق سوم‘ کے نام سے تہران کے جوابی حملے جاری ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل بھی مختلف ایرانی شہروں اور تنصیبات پر میزائل حملے کر رہا ہے۔ اس طرح یہ جنگ اب آٹھویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔
ایران اور اسرائیلی جنگ کی اپ ڈیٹس یہاں دیکھیے:
ایران میں درجنوں اہداف پر حملے کیے: اسرائیلی فوج
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعے کو کہا ہے کہ اس نے رات بھر ایران میں درجنوں فوجی اہداف پر حملے کیے، جن میں دفاعی اختراع اور تحقیق کی تنظیم (ایس پی این ڈی) پر حملہ بھی شامل ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ہے۔
جنوبی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ جمعے کو ایران سے میزائل داغے جانے کے بعد جنوبی اسرائیل میں سائرن بجائے گئے۔
فوج نے ٹیلی گرام پر کہا کہ ’ایران سے اسرائیل کی ریاست کی طرف داغے جانے والے میزائلوں کی نشاندہی کے بعد پورے اسرائیل کے کئی علاقوں میں سائرن بجنے لگے۔‘
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ وہ انہیں روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
یورپی، ایرانی وزرائے خارجہ کی آج ملاقات متوقع
یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ جمعے کو ایرانی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کریں گے، جس میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے سفارتی حل تک پہنچنے کی امید ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی شمولیت کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
کشیدگی میں کمی پر زور دینے والے یورپی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’اگلے دو ہفتوں کے اندر‘ فیصلہ کریں گے کہ آیا اسرائیل کی بمباری کی مہم میں امریکہ کو شامل ہونا ہے یا نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعے کو جینیوا میں اپنے فرانسیسی، جرمن، برطانوی اور یورپی یونین کے ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ہو گی۔
جمعرات کو واشنگٹن میں اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات کے بعد برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ ’اب اگلے دو ہفتوں کے اندر سفارتی حل کا ایک امکان موجود ہے۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق لیمی اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ’اتفاق کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہیں کر سکتا۔‘
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے اپنی مہم میں امریکہ کی شمولیت کے امکان کا خیرمقدم کیا، جب کہ ایران کے اتحادی روس نے امریکہ سے کہا کہ تنازع میں شمولیت ایک ’انتہائی خطرناک قدم‘ ہو گا۔
ایک سفارت کار نے بدھ کو اے ایف پی کو بتایا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی جمعے کو تنازعے پر دوسرے اجلاس کے لیے بلانے والی ہے، جس کی درخواست ایران نے روس، چین اور پاکستان کی حمایت سے کی تھی۔
ایران اسرائیل جنگ: ویمنز ایشین کپ کوالیفائر ملتوی، سنگاپور فٹ بال ایسوسی ایشن
سنگاپور کی فٹ بال ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی وجہ سے اردن میں اگلے ہفتے ہونے والے ویمنز ایشین کپ کوالیفائر ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنگاپور کی ٹیم کا اگلے سال مارچ میں آسٹریلیا میں ہونے والے فائنل کے ابتدائی راؤنڈ کے لیے عمان کا سفر متوقع تھا، جہاں اس کا مقابلہ اردن، ایران، لبنان اور بھوٹان سے ہونا تھا۔
یہ کوالیفائر راؤنڈ پیر (23 جون) کو شروع ہونا تھا اور پانچ جولائی تک جاری رہنا تھا۔
تاہم خطے کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا: ’ٹیم کو اپنی اے ایف سی ویمنز ایشین کپ آسٹریلیا 2026 کی کوالیفائنگ مہم کے آغاز میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسا کہ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن نے گروپ اے کے تمام میچوں کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔‘
مزید کہا گیا کہ ’ایشین فٹ بال کنفیڈریشن نے تبدیلی کی وجوہات کے طور پر خطے میں جاری صورت حال اور متعدد شریک رکن ایسوسی ایشنز کی طرف سے اٹھائے گئے لاجسٹک خدشات کا حوالہ دیا ہے۔‘
مزید کہا گیا: ’توقع ہے کہ ایک نئے غیر جانبدار مقام پر گروپ میچوں کی میزبانی ہو گی، لیکن اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔‘
روئٹرز نے تبصرے کے لیے ایشین فٹ بال کنفیڈریشن سے رابطہ کیا ہے۔
اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر یہ کہہ کر حملوں کا آغاز کیا تھا کہ اس کا مقصد اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا ہے، جس کے بعد سے تہران نے بھی اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔
ایران اور اسرائیل میں جنگ کی وجہ سے خطے کی صورت حال کشیدہ ہے اور مختلف ممالک نے اپنے شہریوں کا ایران اور اسرائیل سے انخلا کیا ہے۔
تل ابیب میں ناروے کے سفیر کی رہائش گاہ پر دستی بم سے حملہ: اسرائیلی حکام
اسرائیل حکام کے مطابق جمعرات کو تل ابیب میں ناروے کے سفیر کے گھر کے صحن میں ایک دستی بم پھینکا گیا، تاہم واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
ناروے کی وزارت خارجہ میں کمیونیکیشن کے سربراہ تووا بوگسنیس نے اے ایف پی کو ایک بیان میں بتایا: ’جمعرات کی شام تل ابیب میں ناروے کے سفیر کی رہائش گاہ کے باہر ایک دھماکہ ہوا۔‘
اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ اسرائیل میں ناروے کے سفیر پَر ایگل سیلواگ کے ساتھ رابطے میں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیلواگ کے گھر کو ’ایک دستی بم‘ سے نشانہ بنایا گیا۔
سار نے کہا: ’میں اس سنگین اور خطرناک جرم کی شدید مذمت کرتا ہوں۔‘
بوگسنس نے مزید کہا کہ ’اس واقعے میں سفارت خانے کا کوئی عملہ جسمانی طور پر زخمی نہیں ہوا۔‘
