امریکی جواب میں ایران کے لیے رعایتیں شامل نہیں: ایرانی میڈیا
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ مذاکراتی ایجنڈے پر امریکہ کے حالیہ جواب میں کوئی ’واضح رعایت‘ شامل نہیں ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ واشنگٹن نے پانچ نکاتی فہرست پیش کی ہے، جس میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ ایران صرف ایک جوہری تنصیب کو فعال رکھے اور اپنے زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو امریکہ منتقل کرے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ نے بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے ’25 فیصد‘ بھی جاری کرنے یا جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصان کا کوئی ہرجانہ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ نے تمام محاذوں پر جنگ بندی کو مذاکرات کے آغاز سے مشروط کر دیا ہے۔
دوسری جانب مہر نیوز ایجنسی نے کہا: ’امریکہ کوئی ٹھوس رعایت دیے بغیر وہ رعایتیں حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ کے دوران حاصل نہ کر سکا، جس سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘ (اے ایف پی)
ابوظبی حکام نے کہا ہے کہ الظفرة ریجن میں واقع براكة جوہری پاور پلانٹ کے اندرونی حفاظتی حصار کے باہر ایک برقی جنریٹر میں ڈرون سٹرائیک کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ تابکاری کے حفاظتی معیار پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔
فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن ’فینر‘ نے بھی تصدیق کی کہ آگ سے پاور پلانٹ کی حفاظت یا اس کے اہم نظاموں کی فعالیت متاثر نہیں ہوئی اور تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔ (ابوظبی میڈیا آفس)
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کی عباس عراقچی سے آبنائے ہرمز میں کارگو جہاز پر حملے پر بات چیت
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے اتوار کو اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک جنوبی کوریا کے کارگو جہاز پر حالیہ حملے کے حوالے سے بات کی۔
کورین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ چو ہیون نے عباس عراقچی سے گذشتہ دنوں آبنائے ہرمز میں ان کے ملک کے پرچم بردار بحری جہاز پر حملے پر ایران کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا۔
ایک جنوبی کوریائی عہدیدار اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ایران کے علاوہ کسی اور فریق کے ملوث ہونے کا امکان کم ہے۔ (روئٹرز)
