Sat. Apr 18th, 2026

اسلام آباد مکالمے کی ایک نئی کوشش

2693699 zahidahinanewnew 1724780032



اسلام آباد کے مذاکرات نے امید کی ایک مدہم سی شمع روشن کی۔ امریکا اور ایران کے نمائندے ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مکالمے کی صورت پیدا ہوئی، اگرچہ اس ملاقات سے کوئی فوری اور خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس واپس لوٹ گئے لیکن اس کے باوجود یہ لمحہ اپنے اندر مستقبل کی کئی ممکنہ راہوں کی جھلک لیے ہوئے تھا۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں اپنے پیچھے صرف تباہی اور پشیمانی چھوڑ جاتی ہیں جب کہ مذاکرات امید اور استحکام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی ہولناکیاں آج بھی انسانی شعور پر نقش ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ طاقت کے استعمال سے وقتی فتح تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر پائیدار امن نہیں۔ اسی طرح ویتنام، افغانستان اور عراق کی جنگوں نے بھی یہی ثابت کیا کہ بندوق کی گونج آخرکار مکالمے کی ضرورت کو جنم دیتی ہے۔

ایران اور امریکا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے بداعتمادی، پابندیوں اور سیاسی کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تناؤ اور پراکسی تنازعات اس تعلق کی پہچان بن گئے۔ ان تمام تلخیوں کے باوجود اگر دونوں فریق ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں تو یہ امر اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بالآخر مکالمہ ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔
اس ملاقات کے بعد ایک بار پھر امید کی ایک مدہم مگر روشن کرن ابھری ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی جلد منعقد ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں تین مختلف مقامات جنیوا، استنبول اور اسلام آباد زیرغور آئے اور ہر ایک اپنی تاریخی وسفارتی اہمیت رکھتا ہے۔

جنیوا طویل عرصے سے عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک غیرجانبدار مرکز کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے جب کہ استنبول نے بھی مشرق اور مغرب کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کیا ہے تاہم اطلاعات یہی اشارہ دیتی ہیں کہ دوسرے دور کے انعقاد کے امکانات ایک بار پھر پاکستان ہی کے حق میں زیادہ روشن ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ امن کے تسلسل کی ایک خوش آئند علامت ہوگی۔ مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ تعطل اور ڈیڈلاک سفارتی عمل کا فطری حصہ تو ہوتے ہیں مگر اصل دانشمندی ان رکاوٹوں کو عبور کرنے میں ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو بالآخر راستے نکل آتے ہیں جب کہ مکالمے کی بندش صرف فاصلے بڑھاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اختلافات کے باوجود رابطے کی یہ ڈور مضبوطی سے تھامی رکھی جائے کیونکہ پائیدار امن کی بنیاد اس مسلسل اور سنجیدہ مکالمے میں مضمر ہے۔ 

اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کو کسی بڑی سفارتی فتح کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے ایک ابتدائی قدم کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ امن کے سفر میں پہلا قدم ہمیشہ سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اعتماد کی فضا ایک دن میں قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل کوششیں اور خلوص نیت درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اس ملاقات کے فوری نتائج سامنے نہیں آئے لیکن مذاکرات کے دوسرے دور کی متوقع خبر امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھری ہے۔

جنگ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس کا خمیازہ وہ لوگ بھگتتے ہیں جو روزمرہ کی زندگی سے جھوج رہے ہوتے ہیں۔ تباہ حال شہر، بے گھر خاندان، مہاجرین کی طویل قطاریں اور یتیم بچوں کی خاموش آنکھیں جنگ کی اصل تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے برعکس مذاکرات امید، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے دانشور ادیب اور امن پسند حلقے ہمیشہ مکالمے کو ہی مسائل کے حل کا ذریعہ قرار دیتے آئے ہیں۔

تاریخ میں کئی ایسے مواقع ملتے ہیں جب بظاہر ناقابلِ حل تنازعات بھی مذاکرات کے ذریعے حل ہوئے۔ مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ، جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت اس حقیقت کے روشن ثبوت ہیں کہ جب فریقین خلوص نیت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو دیرپا امن کا حصول ممکن ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقات بھی اسی عالمی روایت کا ایک تسلسل ہے۔ اس لمحے کی اہمیت اس میں مضمر ہے نہ کہ کسی فوری کامیابی میں۔ یہ اس یقین کا اظہار ہے کہ دہائیوں پر محیط دشمنی کے باوجود مکالمے کے دروازے بند نہیں ہوتے، اگرچہ سیاسی مفادات اور ماضی کی تلخ یادیں اس راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں لیکن انسانیت کی مشترکہ بھلائی ان تمام رکاوٹوں سے بالاتر ہے۔

ادب اور تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ امن کی خواہش انسانی فطرت کا بنیادی جزو ہے۔ جنگیں وقتی طور پر نفرت کو جنم دے سکتی ہیں لیکن دلوں میں بسنے والی امن کی آرزو کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کر سکتیں۔ یہی آرزو دنیا کو بار بار مکالمے کی میز کی طرف واپس لاتی ہے۔ آج جب دنیا مختلف تنازعات، معاشی عدم استحکام اور ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ہر وہ کوشش جو امن کے قیام کی طرف پیش رفت کرے، قابلِ قدر ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سفارت کاری کا عمل صبر اور تسلسل کا متقاضی ہوتا ہے۔ ایک ملاقات یا ایک معاہدہ تمام مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔ تاہم یہ اقدامات اعتمادسازی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جو مستقبل میں مثبت پیش رفت کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان متوقع دوسرے دور مذاکرات اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں۔

آج کی دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہتھیاروں کی دوڑ نہیں بلکہ مکالمے کی ہے۔ نفرت اور عدم برداشت کے اس عہد میں اگر کہیں سے امن کی کوئی صدا بلند ہوتی ہے تو وہ پوری انسانیت کے لیے امید کا پیغام بن جاتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ پیش رفت بھی اسی امید کی علامت ہے، ایک ایسی امید جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اختلافات کے باوجود باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ذریعے مشترکہ مستقبل کی تعمیر ممکن ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملاقات محض ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے اس مسلسل سفر کی ایک جھلک ہے جس کا مقصد جنگ کے اندھیروں سے نکل کر امن کی روشنی تک پہنچنا ہے۔ اگرچہ اس سفر کی منزل ابھی دور ہے لیکن ہر قدم جو مکالمے کی سمت اٹھایا جائے، انسانیت کے لیے ایک نئی امید کا پیامبر ہوتا ہے کیونکہ بالآخر ہر مسئلے کا پائیدار حل صرف اور صرف مذاکرات اور امن میں ہی پوشیدہ ہے۔
 



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *